جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

امید ہے عدلیہ ہمیں حسن و حسین نواز کی طرح انصاف فراہم کریگی،بیرسٹر گوہر

datetime 20  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عدلیہ سے امید ہے کہ وہ ہمیں حسن و حسین نواز کی طرح انصاف فراہم کرے گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر اعتماد کرتے ہیں، امید کرتے ہیں کہ ہمیں بھی جلد انصاف دیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے سیاسی معاملات پر بات ہوئی ہے، حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے ایسے خدشات آتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں افغانستان کے ساتھ ایسے معاملات کبھی نہیں ہوئے، قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے شیر افضل مروت ہمارے امیدوار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم (آج) جمعرات کو اسپیکر کو باضابطہ طور پر خط لکھیں گے، آئی ایم ایف کو ہم نے لیٹر لکھے، یاد دہانی کرائی، ہم نے یہاں سے کسی کو آرگنائز کر کے احتجاج کے لیے نہیں بھیجا، اوورسیز پاکستانی اگر احتجاج کرتے ہیں تو ان کو روک نہیں سکتے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر ہم سب متفق ہیں، کسی سیاسی جماعت کو آرٹیکل 51 کے مطابق جیتی ہوئی سیٹیوں سے زیادہ نشستیں نہیں مل سکتیں۔انہوںنے کہاکہ القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت جاری ہے، ساتویں گواہ کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے، یہ ایک ٹرسٹ تھا جس میں ذاتی طور پر ٹرسٹی کا کوئی کردار نہیں، نیب کے گواہان نے تسلیم کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا القادر ٹرسٹ میں کوئی مفاد نہیں، جیل کے اطراف رکاوٹوں کے باعث 2 کلو میٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حسن اور حسین نواز 7 سال بعد پاکستان آئے، ان کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ اور جے آئی ٹی کی رپورٹ موجود ہے، یہ دونوں ایک دن عدالت میں پیش ہوئے اور دوسرے دن ان کے خلاف تمام کیسز ختم ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ حسین اور حسین نواز کے ریفرنسز کئی عشروں پر چلنے والے تھے جس کے لیے ثبوتوں کی بھی ضرورت نہیں تھی، عدلیہ سے امید ہے کہ وہ ہمیں ان ہی کی طرح انصاف فراہم کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…