اتوار‬‮ ، 15 مارچ‬‮ 2026 

قرضوں کا بوجھ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کو بتادیا

datetime 11  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے اقوام متحدہ سے قرضوں کی پائیداری کے مسائل سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اپنے عزم کو مضبوط کرنے کی گزارش کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس بوجھ کو صنفی مساوات اور موحولیاتی تبدیلی کی کاوشوں میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ان پیچیدہ معاملات پر معاونت بڑھانے کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے گروپ آف فرینڈز آن جینڈر پیریٹی کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے قرضوں کی پائیداری، ماحولیاتی فنانس اور غیر ملکی قبضے والے علاقوں میں خواتین کی حالت زار کے درمیان اہم تعلق کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرض کی ادائیگی بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور قرضوں کے بوجھ کے دوہری چیلنجوں سے نبرد آزما ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرض کی پائیداری کے ساتھ موسمیاتی فنانس کی ضرورت کو متوازن کرنے کے لیے جدید فنانسنگ میکانزم کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مالیات کو قرض سے نجات کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے، ترقی پذیر ممالک موسمیاتی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اور زیادہ پائیدار اور لچکدار مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں اور اپنی مالی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

منیر اکرم نے دلیل دی کہ یہ ترقی پذیر ممالک کو بااختیار بنائے گا کہ وہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو مثر طریقے سے سنبھال سکیں اور ساتھ ہی ساتھ موسمیاتی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک پائیدار مستقبل کو فروغ دیں۔بالخصوص بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں غیر ملکی قبضے کے تحت خواتین کو درپیش چیلنجوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، سفیر منیر اکرم نے انتظامی جبر سے لے کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں تک کی مشکلات کا خاکہ پیش کیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان حالات میں خواتین کو تشدد، استحصال اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ان کے حقوق اکثر استثنی کے ساتھ پامال ہوتے ہیں۔2021 میں اقوام متحدہ کے سینئر انتظامی سطح پر صنفی مساوات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے، سفیر منیر اکرم نے خواتین کو بااختیار بنانے اور کام کی جگہوں پر خواتین کی شمولیت اور معاشروں کی تشکیل میں صنفی مساوات کے اہم کردار پر زور دیا۔

تاہم، انہوں نے اقوام متحدہ میں مساوی جغرافیائی نمائندگی پر زور دیتے ہوئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی خواتین کی نمائندگی میں موجودہ عدم توازن کی طرف توجہ مبذول کروائی، سفیر منیر اکرم نے دلیل دی کہ اس طرح کی نمائندگی تنظیم کو مزید متحرک، مضبوط اور تمام خطوں اور براعظموں کے لوگوں کی امنگوں کی حقیقی عکاسی کرے گی۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی طرف سے ایک جامع نقطہ نظر، صنفی مساوات، آب و ہوا کی کارروائی، اور قرض کی پائیداری کا مطالبہ سب کے لیے زیادہ جامع اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے تقاضوں کے مناسبت ہے۔



کالم



مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)


بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…