جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان میں تو عمران خان باہر آجائیں گے، شیر افضل کی بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی بات پر قہقہے لگ گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہ کرانے پرجیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ایس پی جیل عدالت کو آگاہ کیا کہ 2 روز قبل اڈیالہ جیل کی بیک سائیڈ سے اسلحہ اور بارود برآمد ہوا، دو افراد گرفتار ہوئے جس کی وجہ سے کل سارا دن سرچ آپریشن جاری رہا، سرچ آپریشن کی وجہ سے گزشتہ روز رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔

اس پر جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی خود لکھ کردیں گے کہ وہ کس کس سے ملاقات کریں گے، ان کے دیے گئے ناموں کے علاوہ کوئی ایس پی درخواست نہیں دے سکے گا۔عدالتی ریمارکس پر شیر افضل مروت نے عدالت سے استدعا کی ایس پی مصروف ہوتے ہیں کوئی فوکل پرسن مقرر کردیں، اس پر ایس پی جیل نے بتایا کہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل فوکل پرسن ہوں گے ،ہم نے مشاورت سے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کیلئے دن مقرر کیے تھے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں کی تعداد اب بڑھ گئی ہے، ان کی سکیورٹی کی وجہ سے ہمیں بہت سے کام روکنے پڑتے ہیں،استدعا ہے کہ ملاقات کرنے کے دن مقرر رہنے دیے جائیں۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایاکہ منگل اور جمعرات کے 2 دن مقرر ہیں جن میں 2، 2 سیشن ہوتے ہیں، ایک سیشن میں 6 افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔اس دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کردیں جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ رمضان میں تو خان صاحب باہر آجائیں گے، یہ درخواست غیر مؤثر کروانا چاہتے ہیں، شیرافضل مروت کی بات پر کمرہ عدالت میں قہقہیگونجنے لگے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ہدایات کے ساتھ اگلے جمعہ تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…