جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے، چیف جسٹس

datetime 8  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے،فوجی عدالتوں میں انٹرا کورٹ اپیلوں میں میری رائے میں جسٹس طارق پر غیر ضروری اعتراض کیا گیا۔سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں انٹرا کورٹ اپیلوں میں میری رائے میں جسٹس طارق پر غیر ضروری اعتراض کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر اپنے نوٹ میں کوئی رائے نہیں دی تھی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراض ہونے پر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے پریکٹس پروسیجر کمیٹی میں بڑا اہم کردار ادا کیا، وہ کہتے تھے 40 سے 50 کیس میری عدالت میں لگا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود کی عدالت زیادہ فیصلے سنانے کیلئے مشہور ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کا پس منظر میں بھی ایک کردار ہے، وہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے کے حقدار تھے، جسٹس سردار طارق مسعود کو چیف جسٹس نہ بنا کر صوبے کا نقصان ہوا، اس کا فائدہ سپریم کورٹ کو ہوا کیونکہ یہ سپریم کورٹ آگئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے، ہم نے چھٹیوں پر جانے سے پہلے رات کو بیٹھ کر اس آرڈر کے خلاف کیس سنا، ہم تب وہ کیس تین سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنا کر سننا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے بیٹھنے سے انکار کردیا تھا، ہم نے ان کے بعد دوسرے سینئر جج کو ساتھ بٹھایا اور رات 12 بجے فیصلہ سنایا، ایسا نہ ہوتا تو صدرِ پاکستان اور الیکشن کمیشن کی دی تاریخ پر الیکشن ڈیل ریل ہوسکتے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی خالی آسامیوں کا احساس ہے، ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے رولز میں ترامیم پر غور ہو رہا ہے، وقت آگیا ہے ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا الگ سیکریٹریٹ ہو۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…