جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیدیا،رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی

datetime 7  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کی سفارش کردی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق نمبر 5میں ترمیم کردی۔

اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز پر الزامات لگا کر انکی تشہیر کی گئی، کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ججز کا موقف ہے بے بنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5کی خلاف ورزی ہوگی۔اعلامیہ کے مطابق کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ بے بنیاد الزامات کا جواب دینے سے شق 5کی خلاف ورزی نہیں ہوتی،ججوں کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5میں ترمیم کی گئی۔

کونسل کے اعلامیہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 6 مختلف شکایات کا جائزہ لیا، 6میں سے 5شکایات میں ایسا کوئی مواد نہیں تھاجس پر کونسل کارروائی کرے، بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک جج کیخلاف شکایت پرجج کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے جج نوٹس کا جواب 14دن میں سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر نقوی کے خلاف 9شکایات کا جائزہ لیا، ان شکایات کا جائزہ آئین کے آرٹیکل 206کی شق (6)کے تحت لیا گیا،مظاہر نقوی ان شکایات میں مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے، انہیں جج کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہئے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…