جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہیں مگر دیکھا جائے معاملات یہاں تک کیسے پہنچے؟، عمران خان

datetime 19  جنوری‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہیں مگر دیکھا جائے معاملات یہاں تک کیسے پہنچے؟ کیا ایران سے تعلقات خراب کرنا ہمارے مفاد میں ہے؟ افغانستان کے تعاون کے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران نے جو کیا اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہے کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے، یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے،یہ کونسی عقل ہے کوئی ملک کو اس پوزیشن میں ڈالتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ شاہ محمود قریشی بطور وزیر خارجہ افغانستان گئے تو انہوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا، بلاول جب وزیر خارجہ تھے تو ایک مرتبہ بھی افغانستان نہیں گئے، دہشت گردی افغانستان کے تعاون کے بغیرختم نہیں ہوسکتی، آج افغانستان بارڈربند کرنے کا سوچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بطور وزیراعظم خود بھی ایران گیا تھا اور سپریم لیڈر سے بھی ملا تھا، جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہوں وہ آج خوش ہیں، کیا ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنا ہمارے مفاد میں ہے؟، بے جے پی کی پاکستان بارے پالیسی بھی اچھی نہیں ہے، بڑھاوا دینے کے بجائے صورتحال کو ڈیفیوز ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے ملک کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے، اکتوبر میں انتخابات ہو جاتے تو استحکام آچکا ہوتا، پی ٹی ائی کو کرش کرنے کے لیے انتخابات کو ملتوی کیا گیا، نگراں وزیراعظم کو کوئی سنجیدہ نہیں لے گا۔

انہوں نے کہاکہ کہا کہ نیوٹرل بھائی جان بھول گئے کہ ٹائم کسی کا انتظار نہیں کرتا، یہ 2002والی پلے بک نہیں ہے، پاکستان کی صورتحال 1970ء کی ہے جب صرف پارٹی ٹکٹ جیتا تھا، جو ظلم کیا جا رہا ہے یہ ہماری انتخابی مہم ہے، امیدواروں کے پوسٹرز پر قیدی نمبر 804لکھا جائیگا، جو لوٹوں کے ساتھ ہو چکا ہے کوئی اپنی جگہ سے ہلے گا نہیں، ظلم کے باوجود پارٹی اس لئے نہیں ٹوٹی کیونکہ ہمارا ووٹ بینک ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء نے زبردست کام کیا میں چاہتا ہوں انہیں ٹکٹ ملیں، مجھے ٹکٹس پر ان پٹ کم ملی اسی لئے عمر ایوب اور شبلی فراز کو ٹکٹ فائنل کرنے کا کہا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جیل میں صرف پی ٹی وی کی سہولت ہے جس پر پروپیگنڈا ہوتا ہے ٹی وی پر سپورٹس دیکھ لیتا تھا اور ورلڈ کپ کے بعد سپورٹس بھی دیکھنا چھوڑ دیا، صبح ایک ڈیڑھ گھنٹہ ورزش کرتا ہوں جس کے بعد عدالت آجاتا ہوں، جیل میں رہتے ہوئے تین بار قران پاک کو پڑھا ہے ،قران کو پڑھ رہا ہوں اور ساتھ نوٹس بھی لے رہا ہوں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے جیل میں ڈالا ،جیل میں نہ ہوتا تو کتابیں پڑھنے کا موقع نہ ملتا ،عبادت بھی تنہائی میں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل میں آدمی کو سوچنے اور پڑھنے کا موقع ملتا ہے جیل میں رہتے ہوئے سیرت النبی ۖ کو بھی پڑھا ہے جب انسان خواہشوں پر قابو پا لیتا ہے تو کوئی مشکل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جسے کرپشن نہ کرنی ہو اسے اپنے امپائر نہیں کھلانے ہوتے ،سپریم کورٹ پر حملہ نواز شریف نے کیا تھا یہ ایمان دار جج کو ٹکنے نہیں دیں گے، نواز شریف کرکٹ میں بھی اپنے ایمپائرز کے بغیر نہیں کھیلتا تھا جب کہ میرا کوئی جج نہیں ہے، جسٹس اعجاز الحسن معیاری جج تھے ان کے استعفیٰ پر افسوس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…