اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

’بگٹی کی موت کو حادثہ کے طور پر قبول کیا جائے‘پرویز مشرف کے وکیل کا مطالبہ

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا ہے کہ بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی موت کے واقعے کو خدا کی رضا اور ایک حادثہ کے طور پر قبول کیا جائے۔یہ بات انہوں نے بدھ کوکوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں نواب بگٹی کے مقدمہ قتل کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔نواب بگٹی کے قتل کا واقعہ ایک فوجی آپریشن کے دوران 26 اگست 2006ء میں پیش آیا تھا۔بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر ان کے قتل کا مقدمہ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف مرحوم اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی عبد الصمد لاسی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران ملزمان میں سے آفتاب احمد شیر پاؤ عدالت میں پیش ہوئے۔ابھی تک آپ پوری تحقیقات دیکھ لیں یہ کیس ایک حادثہ ہے جس میں میں غار بیٹھ گئی ہے اس میں کوئی اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے۔میں تو کہوں گا ہم سب پاکستانی ہیں ہم بھی سب بلوچستان سے پیار کرتے ہیں۔پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے ایک درخواست دائر کی جس میں درخواست دہندہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کو استغاثہ کے وکیل کے طور پر شامل کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اختر شاہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ نواب بگٹی کی موت کا واقعہ ایک حادثہ تھا اس لیے اسے ایک حادثہ اور خدا کے رضا کے طور پر قبول کیا جائے۔ان کا کہنا تھا ’ابھی تک آپ پوری تحقیقات دیکھ لیں یہ کیس ایک حادثہ ہے جس میں میں غار بیٹھ گئی ہے اس میں کوئی اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے۔میں تو کہوں گا ہم سب پاکستانی ہیں ہم بھی سب بلوچستان سے پیار کرتے ہیں۔‘
اختر شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’پرویز مشرف کے بھی یہی خیالات ہیں انہیں بھی بلوچستان کے لوگوں سے بہت پیار ہے وہ بلوچ لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔‘لیکن نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ اس کو حادثے کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواب بگٹی کے قاتلوں کو سزا ضرور ملے گی۔ اس مقدمے کے اندراج کے بعد ساڑھے پانچ سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن تاحال تحقیقات کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔سہیل راجپوت ایڈووکٰٹ نے یہ شکایت کی کہ اسغاثہ کی جانب سے اس مقدمہ قتل میں صحیح معنوں میں تحقیقات نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 ء4 میں کرائمز برانچ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ استدعا کی تحقیقات کے حوالے سے ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرایا جائے۔عدالت نے استغاثہ کے دو گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مقدمے کی آئندہ سماعت 21اکتوبر تک ملتوی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…