جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سم استعمال نہ کرنے پر اب صارفین جرمانہ بھریں گے

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے 6 ماہ سے اپنی موبائل سم استعمال نہ کرنے والے صارفین پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں سیلولر موبائل آپریٹرز عوام کو سمز مفت فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کے پاس ضرورت سے زیادہ سمز بھی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بہت سی سمز استعمال نہیں ہوتیں۔موبائل فون سم استعمال نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے پی ٹی اے نے ان لوگوں پر 200 روپے جرمانے کا اعلان کیا جنہوں نے 6 ماہ سے اپنی موبائل سمز استعمال نہیں کیں۔

پی ٹی اے کے مطابق یکم جنوری 2024 سے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان میں 6 ماہ سے کم مدت سے زیراستعمال موبائل سمز کی واپسی پر موبائل فون آپریٹرز 200 روپے تک چارجز لاگو کرنے کے مجاز ہوں گے۔پی ٹی اے نے تمام صارفین کو 31 دسمبر 2023 تک بلا معاوضہ غیر ضروری سمز کو واپس کرنے کا مشورہ دیا ہے اور بروقت سم واپس کرنے پر صارفین سم کو ختم کرنے کے چارجز سے بچ سکتے ہیں اور سمز کے ذمہ دارانہ استعمال میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

پی ٹی اے نے کہا ہے کہ صارفین کی معلومات یا رضامندی کے بغیر غیرقانونی سم جاری کرنے کی صورت میں سم کو ایک بار بلامعاوضہ ختم کرنے کی اجازت ہو گی۔صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی حیثیت چیک کرنے کے لیے https://cnic.sims.pk/ پر جا کر یا اپنا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے)درج کریں یا 668 پر ایس ایم ایس بھیجیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…