اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

موت کی پیشگوئی کے بعد نجومی کے چاکلیٹ کھلانے پر خاتون کا انتقال

datetime 8  اکتوبر‬‮  2023 |

میسیو(این این آئی)ایک 27 سالہ برازیلین خاتون ایک مقامی خانہ بدوش نجومی خاتون کے پاس گئیں جس نے خاتون کی قریبی موت کی پیشگوئی کی اور 1 دن بعد ہی خاتون کا انتقال ہوگیا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برازیل کی شہری خاتون فرنینڈا سلوا والوز ڈا کروز پنٹو رواں ماہ ایک مقامی نجومی خاتون کے پاس اپنے مستقبل کے بارے میں پوچھنے گئی تھیں جس پر نجومی نے انہیں موت کی پیشگوئی کی اور ساتھ ساتھ ایک چاکلیٹ بھی دی۔گھر میں آکر فرنینڈا نے چاکلیٹ کھائی جس کے بعد شدید پیٹ درد، قے، ناک سے خون بہنے اور ضرورت سے زائد تھوک کا سامنا کرتے ہوئے وہ بیمار ہوگئیں۔

انہیں فوری طور پر سانتا کاسا ڈی میسریکورڈیا اسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں ڈاکٹر کو ان کی طبی حالت سمجھ نہیں آئی جبکہ اگلے دن وہ تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے ہلاک ہوگئیں۔ خاتون کے اہلخانہ کی طرف سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق فرنینڈا نے اپنے گھر والوں کو واقعے کی اطلاع دی تھی۔ فرنینڈا نے انہیں بتایا تھا کہ وہ شہیر میسیو میں ایک فرضی خانہ بدوش نجومی کے پاس گئی تھیں جس نے ان کی جلد موت کی پیشگوئی کی اور ملاقات کے اختتام میں ایک چاکلیٹ بھی دی۔ فرنینڈا نے اسی دن گھر آکر چاکلیٹ کھائی اور پھر بیمار پڑ گئی اور زہر کی علامات کا سامنا کرنا شروع کر دیا۔پولیس ذرائع نے فرنینڈا کی موت پر روشنی ڈالنے ہوئے اہلخانہ کا شکریہ ادا کیا۔ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ اگر اہلخانہ فرنینڈا کو موت کے فورا بعد ہی دو ماہ قبل دفنا دیتے تو زہر کی جانچ کے ٹیسٹ کے بغیر تحقیقات نہیں ہو پاتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…