جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

صدر علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار کو مجروح کیا، کارروائی ہونی چاہیے،بڑا مطالبہ

datetime 21  اگست‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار و تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے اس پر انکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈرز کی سائفر معاملے پر تفتیش اور گرفتاری سے گھبرا کر صدر نے پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے آئین پاکستان کو با لائے طاق رکھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ ٹویٹ کر دیا جس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ آئین پاکستان کا اِس طرح کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر ) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہکانسٹیٹیوشن آف پاکستان آرٹیکل کے مطابق صدرِ مملکت کو جو بھی بل پارلیمنٹ بھیجتی ہے تو صدر کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں،ایک یہ کے وہ اسے سائن کر دے،دوسرا یہ کے وہ دس دن کے اندر آبزرویشنز لگا کر اپنے سائنز کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دے اور جب پارلیمنٹ اسے بل کو دوبارہ واپس بھیجے تو وہ اسے دس دن کے اندر سائن کرے ورنہ وہ دس دن کے بعد آٹومیٹیکلی قانون بن جائے گا۔

لیکن آج پاکستان کی کانسٹیٹیوشنل ہسٹری میں حیران کن طور پر صدر نے رات کے پچھلے پہر ایک ٹویٹ کر دیا کہ میں نے تو بل کو سائن کئے بغیر سٹاف کو واپس کر دیا تھا اور یہ کہ وہ اِن بِلز سے متفق نہیں ،یہ آئین پاکستان کے مطابق ایک غیر آئینی عمل ہے اور کچھ سنجیدہ سوالوں کو جنم دیتا ہے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صدر نام لے کر یہ بتائیں کہ کس سٹاف کو انہوں نے کب اور کیسے بلز واپس کئے تھے؟، کیا انہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل کے تقاضوں کو پورا کیا اور اگر ایسا کیا تو کیسے انہوں نے بغیر دستخط کئے بلز سٹاف کو تھما دیئے اور کس قانون کے مطابق یہ عمل کیا ۔

اس ریکلیس ایکشن سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈرز کی سائفر معاملے پر تفتیش اور گرفتاری سے گھبرا کر صدر نے پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے آئین پاکستان کو با لائے طاق رکھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ ٹویٹ کر دیا ہے ،جس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ آئین پاکستان کا اِس طرح کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر عارف علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار و تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے۔ صدر کا عہدہ پاکستان کی سالمیت اور آین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وفاق کی مضبوطی اور مرکزیت کے علامات سمجھا جاتا ہے ۔

اس ٹویٹ سے دنیا بھر میں پاکستان کا انتہائی منفی پیغام گیا ہے کہ شاید پاکستان میں کوئی دستاویز محفوظ نہیں اور کوئی مراسلہ قابل اعتبارنہیں کہ اس پہ دستخط اصلی ہیں یا جعلی؟ ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر علوی کی اس عہدے کے منافی اور منصب کو داغدار کرنے والی ٹویٹ پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…