جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یونان کشتی سانحہ، متاثرین کی شناخت کیلئے لواحقین نے ڈی این اے نمونے دے دیے

datetime 21  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)یونان میں تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنیوالے حادثے کے متاثرین کی شناخت کے لیے ڈوبنے والی کشتی پر سوار افراد کے خاندان کے افراد گزشتہ روز گجرات اور آزاد کشمیر میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں لواحقین ایک ہسپتال کے باہر نمونے جمع کرانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔غمزدہ حالت میں خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے اپنے نمونے لیے جانے کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔گجرات کے شہر ڈنگہ کے نواحی گاؤں نور جمال سے تعلق رکھنے والا 30 سالہ شخص بھی ایف آئی اے کے دفتر کے باہر اپنے 5 سالہ بھتیجے کے ساتھ قطار میں کھڑا تھا، انہوں نے بتایا کے اس بچے کے والد لاپتا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے کم از کم 11 افراد لاپتا ہیں جو تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل پاکستان چھوڑ کر اٹلی روانہ ہوگئے تھے۔محمد ایوب نامی شہری اپنے ایک سال اور 3 سال کی عمر کے 2 بھتیجوں کے ہمراہ ان کے ڈی این اے کے نمونے لیے جانے کا انتظار کرتے دکھائی دئیے، انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی محمد یٰسین نے بہتر زندگی کی خاطر یورپ پہنچنے کے لیے تقریباً 23 لاکھ روپے ادھار لیے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے یونان کشتی حادثے میں لاپتا 98 نوجوانوں کے خاندانوں کے ڈی این اے سیمپلز حاصل کرلیے ہیں۔

ایف آئی اے گجرات سرکل میں 52 متاثرین کے لواحقین کی جانب سے سیمپل جمع کروائے گئے اور ایف آئی اے گوجرانوالہ سرکل میں 46 متاثرہ خاندانوں نے ڈی این اے سیمپلز دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈی این اے سیمپلز یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کے لیے حاصل کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…