اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے ممکنہ طور پرجنگی جرم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

datetime 14  جون‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(این این آئی )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ غزہ پر کیے گئے اسرائیلی حملے ‘جنگی جرم’ کے زمرے میں آسکتے ہیں اور کہا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف راکٹ فائر کرنے کے الزام کی بھی تحقیقات کی جانا چاہیے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی مسلح گروہوں بشمول جہادِاسلامی نے 9 سے 13 مئی تک ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی تھی جس میں عام شہریوں اور جنگجوں سمیت 35 افراد مارے گئے تھے۔لندن میں قائم انسانی حقوق کے گروپ نے الزام عاید کیا ہے کہ اسرائیلی حملے فوجی ضرورت کے بغیر شہری آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک شکل کے مترادف ہیں۔بیان میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے اندھا دھند راکٹ فائر کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے جس کی جنگی جرائم کے طور پر بھی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 2943 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا ہے۔ان میں 103 مکانات بھی شامل ہیں جو مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بظاہر غیر متناسب فضائی حملے کیے جن میں بچوں سمیت فلسطینی شہری مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے۔2007میں فلسطینی جماعت حماس کے غزہ پر کنٹرول کے کے بعد سے اسرائیل اور غزہ سے تعلق رکھنے والے مزاحمتی گروپوں نے متعدد جنگیں لڑی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ سے قبل 10 سے 13 مئی تک غزہ سے اسرائیل کی جانب 1230 سے زیادہ راکٹ داغے گئے تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کی ریجنل ڈائریکٹر ہیبا مورائف نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بار بار کیے جانے والے جنگی جرائم اور غزہ کی پٹی کی 16 سالہ غیر قانونی ناکا بندی کی وجہ سے مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ناانصافی کو دائمی بنا دیا جاتا ہے۔

فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کے ترجمان نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم پراپنا دفاع کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل، امریکا اور یورپی یونین نے جہاداسلامی کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

غزہ کی پٹی میں قریبا 23 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں جو حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیل کی جبری بری ، بحری اور فضائی ناکا بندی کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…