جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاناما کا معاملہ کچھ اور ہی تھا، 436 افراد میں سے ایک خاندان پر کیس چلایا گیا،جسٹس طارق مسعودکے ریمارکس

datetime 9  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس طارق مسعود نے پاناما سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ پاناما کیس کچھ اور ہی معاملہ تھا، 436 افراد میں سے صرف ایک خاندان کو الگ کرکے کیس چلایا گیا۔سپریم کورٹ میں پاناما اسکینڈل میں شامل 436 افراد کے خلاف تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ پاناما کیس کچھ اور ہی معاملہ تھا،

436 افراد میں سے صرف ایک خاندان کو الگ کرکے کیس چلایا گیا۔جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے ہیں مگر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ 24 سماعتوں کے بعد ایک خاندان کے سوا دیگر تمام افراد کے کیسز الگ کردیے گئے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہاں بیٹھ کربہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے۔

اس دوران جسٹس طارق مسعود نے جماعت اسلامی کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ کا مقصد صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلانا تھا؟ ایف بی آر، ایف آئی اے، نیب اور اسٹیٹ بینک موجود ہیں، کیاریاستی اداروں کو بند کرکے سارے کام سپریم کورٹ سے ہی کرالیں؟اس پر جماعت اسلامی کے وکیل راجہ اشتیاق نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کاحال یہ ہیکہ 3 سال پہلے نوٹس ہوا اور اب تک جواب نہیں آیا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…