منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کی گرفتار خواتین نے جیل میں زیادتی کی تردید کردی

datetime 2  جون‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کی خواتین رہنمائوں نے جیل میں تشدد کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،ہمیں جیل میں رکھنا زیادتی تھی۔پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین کارکنان اور رہنما جنھیں 9مئی کو جنائوح ہائوس پر حملہ اور جلائو گھیرائو کے بعد حراست میں لیا گیا تھا، انہیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔

تھانہ سرور روڑ پولیس نے تحریکِ انصاف سے وابستہ خواتین ملزمان کو گذشتہ روز شناخت پریڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا۔خواتین ملزمان میں صنم جاوید، طیبہ راجہ، عالیہ حمزہ سمیت سات دیگر شامل تھیں ۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیل میں تشدد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے صنم جاوید کا کہنا تھا کہ جیل میں ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی، ہمیں جیل میں رکھنا ہی زیادتی تھی کیونکہ ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تو رکھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔اس موقع پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ آدھی رات کو عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر گھسیٹ کر لانے اس سے زیادہ آپ عورتوں کی کیا تذلیل کریں گے۔طیبہ راجا کا کہنا تھا کہ اگر سوشل اکائونٹس سے مسئلہ ہے تو سوشل میڈیا کے مقدمے کریں اس طرح سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ضروری تو نہیں ہے۔یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جیلوں میں پی ٹی آئی خواتین سے مبینہ طور پر ناروا سلوک کے الزام عائد کیے تھے ۔ جس پر نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جیل میں قیدی خواتین سے ناروا سلوک کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کیا گیا، 2، 2سال کی پرانی ویڈیوز دکھا کر بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 500خواتین 9مئی کے واقعات میں مطلوب تھیں لیکن گرفتاری سے گریز کیا گیا۔اس سے قبل ایس ایس پی انویسٹی گیشنز نے جیل میں خواتین قیدیوں سے بدسلوکی کو مسترد کردیا اور کہا جیل میں کسی کے ساتھ بدسلوکی جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…