اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات: جوڈیشل کمیشن نےکارروائی روک دی

datetime 27  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے عدلیہ اور ججوں سے متعلق مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیشن نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے احکامات کی روشنی میں مزید کارروائی روک دی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دئیے گئے کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے 31 مئی کو اگلی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے تھے۔آڈیو لیکس معاملے پر انکوائری کمیشن ایک سماعت کر چکا ہے، کمیشن نے آڈیوز میں شامل چار افراد کو طلب کر رکھا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں۔اجلاس کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب میرا خیال ہے کہ کوئی عدالتی حکم آیا ہے، کیا آپ کے پاس عدالتی حکم کی کاپی ہے۔اٹارنی جنرل نے کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی فراہم کی اور گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا، سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں گزشتہ روز کمرہ عدالت میں تھے، نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے، مجھے زبانی بتایا گیا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں، سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتی حکمنامے کی کاپی مہیا کی جائے، تھوڑا بہت آئین میں بھی جانتا ہوں، آپ نے گزشتہ روز عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کر چکے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آکر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈر ہوا، کیا شعیب شاہین نے کل یہ کہا کسی کی بھی آڈیو آئے، اس جج کا معاملہ سیدھا سپریم جوڈیشل کونسل بھیج دو، درجنوں ایسی شکایات آتی ہیں کیا ٹھیک کر کے سپریم جوڈیشل کمیشن بھیج دیا کریں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو کی صداقت جانے بغیر کیا کسی کی زندگی تباہ کر دیں، کس نے آڈیو ریکارڈ کی وہ بعد کی بات ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ٹیلی فون پر عدالت پیش ہونے کا کہا گیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ قواعد کے مطابق فریقین کو پیشگی نوٹسز جاری کرنا ہوتے ہیں، کمیشن کو کسی بھی درخواسگزارا نے نوٹس نہیں بھیجا، سپریم کورٹ کے رولز پر عملدرآمد لازم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…