جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

برٹش ایئرویز نے حجاب آپشن کے ساتھ نئی وردی متعارف کرا دی

datetime 24  مئی‬‮  2023 |

لندن (این این آئی )برطانیہ کی قومی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز(بی اے)نے اپنی نئی وردی ملازمین میں تقسیم کرنا شروع کر دی ہے۔اسے فیشن ڈیزائنر سیوائل رو اور درزی اوزوالڈ بوتینگ نے تیارکیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی فضائی کمپنی کی وردی میں گذشتہ قریبا بیس سال میں یہ پہلی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔

اس میں مردوں کے لیے تیار کردہ تھری پیس سوٹ اور خواتین کے لیے کئی اختیار(آپشنز)شامل ہیں۔ان میں خواتین عملہ کے لیے ایک جدید جمپ سوٹ متعارف کروایا گیا ہے اوریہ کسی بھی ایئرلائن میں متعارف کردہ پہلا لباس ہے۔اس نئی وردی میں حجاب کا آپشن اور نیم آستین والی شرٹ بھی موجود ہے۔برٹش ائیرویز کا کہناتھا کہ نئی وردی کے رنگ طیارے کے پر کے اوپر ہوا کی نقل و حرکت سے متاثر ہے جبکہ حجاب کو ثقافتی اور مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے آرام اور سہولت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔جیسے جیسے عملہ نئی یونیفارم پہننا شروع کرے گااور اپنے جولین میکڈونلڈ کپڑے واپس کرے گا توانھیں خیراتی اداروں کو عطیہ کردیا جائے گا یا کھلونے اور ٹیبلٹ ہولڈرز جیسی اشیا بنانے کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جائے گا۔ کچھ ٹکڑوں کو ایئر لائن کے میوزیم کے مجموع میں شامل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…