بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

9 مئی واقعہ: خدیجہ شاہ کو ریلیف دلوانے کیلئے کن شخصیات نے کوششیں کیں؟

datetime 23  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے سیکڑوں کارکنوں کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، خدیجہ شاہ اب تک مفرور ہیں حالانکہ فوج کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ رحمدلی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

جنگ اخبار میں عمر چیمہ کی خبر کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی پوتی اب تک مفرور ہیں اور خود کو پولیس کے حوالے نہیں کر رہیں۔ تاہم، ان کے شوہر پولیس کی حراست میں ہیں۔ انہیں پہلے اپنی اہلیہ کو چھپانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ تاہم، خدیجہ کے شوہر جہانزیب امین اب تک پولیس کی حراست میں ہیں۔

جہانزیب امین ایک اور جرم میں بھی مطلوب ہیں جسے خدیجہ کی گرفتاری کیلئے ایک جال کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ 8.3؍ ملین روپے کے جعلی چیک کیس میں وہ اشتہاری ملزم ہیں۔ اب انہیں عجیب صورتحال کا سامنا ہے۔ بات چیت کرتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ خدیجہ کی گرفتاری پر جہانزیب کو آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ناکامی پر جعلی چیک کیس انہیں کوٹ لکھپت تک لیجا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس کے ہاتھوں دھر لیے جانے کے بعد انہوں نے فوراً تعاون شروع کر دیا۔ ان ہی کی مخبری پر پولیس نے گلبرگ میں ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا لیکن پولیس والوں کی آمد سے چند منٹ قبل ہی خدیجہ وہاں سے فرار ہو چکی تھی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دستیاب ہے۔ جس اپارٹمنٹ میں خدیجہ روپوش تھیں وہ جہانگیر ترین کی بیٹی مہر ترین اور ان کے شوہر عمر شیخ کی ملکیت ہے۔ جس وقت پولیس وہاں پہنچی تو دونوں اپارٹمنٹ پر موجود تھے۔ ترین نے مشکل گھڑی میں ان کی مدد کی ناکام کوشش کی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی اور جہانگیر ترین کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے پولیس سے ر ابطہ کیا لیکن ان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہوئیں۔ اگرچہ خدیجہ کا کیس نمایاں ہو چکا ہے جس کی وجہ ان کا پولیس کے روبرو پیش نہ ہونا ہے لیکن اس سے ا میر لوگوں کی عکاسی ہوتی ہے اور کس طرح یہ لوگ سیاسی اختلاف کے باوجود آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔

ترین فیملی کے علاوہ، کچھ دیگر طاقتور کھلاڑی بھی تھے جن سے رابطہ کرکے خدیجہ کیلئے ریلیف مانگا گیا۔ ان میں سے ایک چوہدری شجاعت حسین ہیں۔ وہ خدیجہ کے نکاح میں بطور گواہ پیش ہوئے تھے۔انہوں نے بھی مدد کی کوشش کی لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ فوج نے 9؍ مئی میں ملوث افراد کیلئے عدم برداشت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ خدیجہ کے سسر، سرمد امین وزیراعظم شہباز شریف کے پرانے دوست ہیں۔

انہوں نے بھی کچھ ملاقاتیں اُن سے کیں جن میں سے ایک ملاقات پیر کو ہوئی، لیکن وزیراعظم انہیں کوئی مدد فراہم نہ کر سکے۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ پولیس کو ہدایت کی معاملے میں صرف قانون سے کام لیا جائے۔ایک مصدقہ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ فوج کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ واقعے میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑنا۔ آرمی چیف کے حالیہ دورۂ لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے ذریعے نے بتایا کہ آرمی چیف نے پولیس کی کارروائی کی تعریف کی اور کہا کہ مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

ایک موقع پر انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ گرفتاری قانونی طریقے سے کی جائے اور خواتین ملزمان کے ساتھ بدتمیزی نہ کی جائے۔خدیجہ امریکی شہری ہیں اور انہوں نے کئی آڈیو پیغامات چھوڑے ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…