فیصل آباد (این این آئی)رہنما پاکستان تحریک انصاف فرخ حبیب نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کی سینئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کو پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور جب ان کی بیٹی ایمان مزاری اپنی والدہ کو لینے پولیس اسٹیشن پہنچیں تو پولیس اہلکاروں نے انہیں زدوکوب کیا۔فرخ حبیب نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان میں جنگل کا قانون ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس فاشسٹ حکومت نے شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کر دیے ہیں۔
فرخ حبیب کا پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں شیریں مزاری پر تشدد، ایمان مزاری سے بدتمیزی کا دعویٰ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
اسرائیل جانیوالی پرواز کے زخمی پائلٹ کا پہلا بیان سامنے آگیا، تصویر بھی جاری
-
افغانوں کے منسوخ کارڈ بحالی کیلیے 12 کروڑ لینے والا اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا گرفتار
-
پاکستانی کریئٹر کی اے آئی سے تیار کردہ فلم کے یوٹیوب پر ریکارڈ توڑ ویوز، نوجوان نے کروڑوں کما لیے
-
خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا
-
نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا کے حوالے سے اہم خبر
-
انکل کو جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے؛ زیادتی کی شکار بچی کا جج سے مطالبہ
-
حکومت نے قومی بچت سکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کردیا
-
آئی فون 18 پرو میکس پر پاکستان میں کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟ نئی تفصیل آگئی
-
زلزلے کے باعث زمین لرز اٹھی، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے
-
انوشکا شرما کے ایک آرڈر نے قرض میں ڈوبے ریسٹورنٹ کی قسمت بدل دی
-
راولپنڈی کے گھر سے دو بھائیوں کی لاشیں برآمد
-
2 روز کمی کے بعد سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ



















































