بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سانحہ بڈھ بیر،حملہ آورافغانستان سے آئے تھے ،ترجمان پاک فوج

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل عاصم باجوہ نے کہاہے کہ پشاورمیں پاک فضائیہ کے ائربیس پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں کاتعلق افغانستان سے ہے اوران دہشتگردوں نے ٹریننگ بھی افغانستان میں کی گئی ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حملہ آوروں کاتعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں نے کانسٹیبلری کایونیفارم پہن رکھے تھے ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں نے حملہ کیااس کوان افغانستان سے کنڑول کیاجارہاتھا۔انہوں نے کہاکہ سہولت کاروں کوبھی جلد گرفتارکرلیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردو ں نے آپریشن ضرب عضب پرضرب لگانے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے اس حملے میں 29افراد شہیدہوئے ۔میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کور ہیڈ کوارٹر میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا صبح 5 بجے کے قریب 13 سے 14 دہشت گردوں نے حملہ کیا اور دہشت گرد کانسٹیبلری کی یونیفارم میں تھے ۔ کیمپ کے باہر آ کر وہ دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروپ انتظامی حصے کی جانب اور دوسرا ٹیکنیکل ایریا کی طرف گیا۔ دہشت گردوں نے نماز پڑھتے اور وضو کرتے افراد کو نشانہ بنایا۔ پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو 50 میٹر کے اندر روک لیا تھا۔ کمانڈوز اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔ دہشت گرد آگے جانا چاہتے تھے لیکن انہیں راستے میں ہی ہلاک کر دیا گیا۔ نو سے ساڑھے نو بجے تک آپریشن مکمل کر لیا تھا اور تمام دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کی کوشش تھی کہ اہم تنصیبات کی طرف جاتے لیکن حملہ آور اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا حملے کی مںصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور اس کو کنٹرول بھی وہاں سے کیا جا رہا تھا اور حملہ آور بھی افغانستان سے آئے تھے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں افغان حکومت کا کوئی کردار ہے البتہ سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں۔ حملے میں کالعدم تحریک طالبان کا گروپ ملوث ہے۔ انٹیلی جنس ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ حملہ آوروں کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے ۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ حملے میں 29 افراد شہید اور انتیس زخمی ہوئے ۔ 23 شہدا کا تعلق پاک فضائیہ سے ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…