جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

سانحہ بڈھ بیر،حملہ آورافغانستان سے آئے تھے ،ترجمان پاک فوج

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل عاصم باجوہ نے کہاہے کہ پشاورمیں پاک فضائیہ کے ائربیس پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں کاتعلق افغانستان سے ہے اوران دہشتگردوں نے ٹریننگ بھی افغانستان میں کی گئی ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حملہ آوروں کاتعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں نے کانسٹیبلری کایونیفارم پہن رکھے تھے ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں نے حملہ کیااس کوان افغانستان سے کنڑول کیاجارہاتھا۔انہوں نے کہاکہ سہولت کاروں کوبھی جلد گرفتارکرلیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردو ں نے آپریشن ضرب عضب پرضرب لگانے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے اس حملے میں 29افراد شہیدہوئے ۔میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کور ہیڈ کوارٹر میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا صبح 5 بجے کے قریب 13 سے 14 دہشت گردوں نے حملہ کیا اور دہشت گرد کانسٹیبلری کی یونیفارم میں تھے ۔ کیمپ کے باہر آ کر وہ دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروپ انتظامی حصے کی جانب اور دوسرا ٹیکنیکل ایریا کی طرف گیا۔ دہشت گردوں نے نماز پڑھتے اور وضو کرتے افراد کو نشانہ بنایا۔ پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو 50 میٹر کے اندر روک لیا تھا۔ کمانڈوز اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔ دہشت گرد آگے جانا چاہتے تھے لیکن انہیں راستے میں ہی ہلاک کر دیا گیا۔ نو سے ساڑھے نو بجے تک آپریشن مکمل کر لیا تھا اور تمام دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کی کوشش تھی کہ اہم تنصیبات کی طرف جاتے لیکن حملہ آور اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا حملے کی مںصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور اس کو کنٹرول بھی وہاں سے کیا جا رہا تھا اور حملہ آور بھی افغانستان سے آئے تھے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں افغان حکومت کا کوئی کردار ہے البتہ سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں۔ حملے میں کالعدم تحریک طالبان کا گروپ ملوث ہے۔ انٹیلی جنس ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ حملہ آوروں کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے ۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ حملے میں 29 افراد شہید اور انتیس زخمی ہوئے ۔ 23 شہدا کا تعلق پاک فضائیہ سے ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…