بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

افغان امن مذاکرات: ’پاکستان میزبانی کا خواہشمند‘

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر کابل چاہتا ہے تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے نئے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔سینیٹ میں خارجہ پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ ’اگر افغانستان چاہتا ہے کہ ہم سہولت فراہم کریں تو پاکستان افغان امن مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کرسکتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پاکستان صرف سہولت فراہم کرسکتا ہے، تاہم افغان حکومت کو پہل کرنا ہوگی۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کابل میں ہونے والی ریجنل اکنامک کانفرنس کے موقع پر انھوں نے افغان رہنماو¿ں کو پیش کش کی تھی کہ طالبان رہنما ملا عمر کی موت کے انکشاف کے بعد ملتوی ہوجانے والے امن مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل کے پہلے مرحلے کی میزبانی رواں برس 7 جولائی کو کی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے دوسرے مرحلے کی میزبانی 31 جولائی کو کی جانی تھی تاہم ملا عمر کی موت کی خبریں نشر ہونے کے بعد طالبان نے مذاکراتی عمل کو ملتوی کردیا تھا۔یاد رہے کہ اس کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیوں میں تیزی آگئی جبکہ تنظیم اندرونی طور پر سربراہی کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوگئی۔تاہم اب چونکہ تنظیم کی سربراہی کے حوالے سے موجود اختلافات ختم ہوچکے ہیں، لہذا اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان امن مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امن مذاکراتی عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے افغان حکومت کے جواب کا منتظر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ان سے ملاقات میں افغان صدر اشرف غنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں اور ملک کی سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد پاکستان کی پیش کش کا جواب دیں گے۔سرتاج عزیز نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے کابل اختلافات کا شکار ہے، انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’کچھ لوگ مذاکراتی عمل کی حمایت اور کچھ مخالفت کررہے ہیں۔‘قومی سلامی کے مشیر نے کہا کہ افغان حکومت مذاکراتی عمل کی حامی نظر آتی ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس میں پاکستانی کردار پر اختلاف رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر جارریٹ بلانک نے رواں ہفتے کے آغاز پر اسلام آباد اور کابل کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ کیا وہ مذاکرات کے لیے واپس ا?نا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ دیگر فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…