پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل آبادمیں 38سال سے ایک ہی جیسے کپڑے پہننے والا ’کپل آف فیصل آباد

datetime 9  مئی‬‮  2023 |

مکوآنہ (این این آئی)شادی پسند کی بھی ہو تو کچھ عرصے بعد محبت کا بھوت سر سے اتر جاتا ہے لیکن ’کپل آف فیصل آباد‘ کے نام سے مشہور مسٹر اینڈ مسز ناصر نے گذشتہ 38 سال سے ایک جیسے رنگ اورڈیزائن کے کپڑے پہن کر ایسی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی دوسری کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔یہ منفرد جوڑا شہر کی ہر اہم ادبی اور ثقافتی تقریب کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے،

جو اپنے ذوق، لباس اور گفتگو کی وجہ سے ہر جگہ مرکز نگاہ بن جاتا ہے۔مسز شگفتہ ناصر نے اس حوالے سے این این آئی سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اپنے لباس سے امن کا پیغام اور محبت کی تبلیغ کرتے ہیں۔’جب ہماری شادی ہوئی تو ہمیں تقریباً ایک سال یہ سوچنے میں لگا تھا کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جو پہلے کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔ پھر یہ فیصلہ ہوا کہ لباس ایسا پہنا جائے۔‘انہوں نے بتایا کہ ایک جیسا لباس بنانے کے لیے مردانہ کپڑا لیتے ہیں جس کے بعد کلر سکیم اور ڈیزائننگ کا مرحلہ آتا ہے۔شگفتہ ناصر اپنے کپڑوں کی ڈیزائننگ زیادہ تر خود ہی کرتی ہیں اور جہاں پر انہیں سمجھ نہیں آتی تو وہ اپنے شوہر سے مدد لیتی ہیں۔انہوں نے بتایا: ’درزی سپیشل ہے، ان کے لیے مرد اور میرے لیے خاتون۔ درزی ہمارے الگ الگ ہیں لیکن یہ ہے کہ جب ڈیزائننگ ہو جاتی ہے تو درزی کو بھی سمجھانا پڑتا ہے کہ اس طرح ڈیزائن بنانا ہے اور اس طرح سے آپ نے سلائی کرنی ہے۔‘شفگتہ کے مطابق جب انہوں نے ایک جیسا لباس پہننا شروع کیا تو سوشل میڈیا اتنا زیادہ عام نہیں تھا، اس لیے لوگوں کو اتنا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا کی وجہ سے وہ زیادہ مشہور ہو گئے ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر بہت سراہتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’کپل آف فیصل آباد‘ کا ٹائٹل انہوں نے خود اپنے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ ایک تقریب کے دوران انہیں یہ ٹائٹل دیا گیا جو اب ان کی پہچان بن چکا ہے اور انہیں مختلف پروگرامز یا تقریبات میں اسی حوالے سے مدعو کیا جاتا ہے۔اس بارے میں محمد ناصر نے شریک گفتگو ہوتے ہوئے بتایا کہ جب سے انہوں نے ایک جیسا لباس پہننا شروع کیا ہے کافی لوگوں نے کوشش کی کہ وہ بھی اس طرح ایک جیسا لباس پہنیں لیکن کوئی ایک، دو سال سے زیادہ ایسا نہیں کر سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…