اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پلاسٹک کے ذرات خون اور دماغ تک پہنچ سکتے ہیں،ماہرین کا انتباہ

datetime 7  مئی‬‮  2023 |

ویانا(این این آئی )ماہرین نے چوہوں پر تجربات سے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات ماں کے دودھ، خون اور دماغ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جامعہ ویانا کے محققین نے چوہوں کے تجربات کے بعد کہا کہ عین یہی معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے پلاسٹک کے خردبینی ذرات والا پانی چوہوں کو پلایا اور نوٹ کیا کہ دو گھنٹے میں پلاسٹک ان کے دماغ تک جاپہنچا۔

دماغ میں جانے کے بعد پلاسٹک کے ذرات اندرونی جلن (انفلیمیشن)اعصابی منفی کیفیات اوریہاں تک کہ الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسی خطرناک بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتے ہیں، ویانا یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں لیوکاس کینر کے مطابق اگرچہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن چوہوں پر منفی اثرات خود انسانوں پر بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگر مائیکرو(خرد)پلاسٹک دماغ تک چلے جائیں تو وہ کم وقتی اثرات مثلا اکتسابی خرابی، اعصابی سمیت (ٹاکسی سِٹی) اور نیوروٹرانسمیٹر تک میں تبدیلی کی وجہ بن سکتے ہیں۔ماہرین نے چوہوں کو جو پانی پلایا اس میں پولی اسٹائرین کے ذرات شامل تھے جن سے فون بنتا ہے اور کھانے کے کپ کو پیک کیا جاتا ہے۔ ان میں 0.001 ملی میٹر کے انتہائی باریک (نینو) ذرات چوہوں کے دماغ تک جاپہنچے جن کی تصدیق کمپیوٹرماڈلوں سے بھی ہوگئی۔ لیکن ماہرین اب تک یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر کس طرح پلاسٹک دماغ کے اندر پہنچے کیونکہ خون اور دماغ کے درمیان ایک خلیج ہوتی ہے جسے بلڈ برین بیریئر کہا جاتا ہے اور یوں دماغ زہریلے جسمانی مواد سے محفوظ رہتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ پلاسٹک کی تھیلیاں ہوں یا بوتلیں ان سے باریک ذرات نکل کر مٹی اور پانی میں مل رہے ہیں اور یوں ہم انسان روزانہ ہی پلاسٹک نگل رہے ہیں۔پلاسٹک کے ذرات اب خواتین کے دودھ ، انسانی خون اور آنول نال میں بھی دریافت ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…