جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

شرح سود بڑھنے کی وجہ سے قرضوں کا حجم بڑھا،وفاقی وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی

datetime 27  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق شرح سود بڑھنے کی وجہ سے قرضوں کا حجم بڑھا، ڈالر کا ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے بھی مہنگائی اور قرض بڑھا ہے۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2022تک پاکستان کا قرضہ 55 ہزار 800 ارب روپے تھا۔

جولائی تا دسمبر ڈالر کا ایکسچینج ریٹ11 فیصد بڑھا، دسمبرتک پاکستان کے قرض میں مقامی قرضہ 62.8 فیصد ہے، دسمبرتک پاکستان کے قرض میں غیرملکی قرضہ 37.2 فیصد ہے، جولائی تا دسمبر 3.2 ارب ڈالرکا غیرملکی قرضہ لیا،2.7 ارب ڈالر واپس کیا۔وزارت خزانہ کے مطابق اس سال ملک میں مہنگائی کی شرح 28.5 فیصد رہے گی، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہیگی، پاکستان کا پبلک ڈیبٹ تا حال رسک ہے، سال 2026 تک قرضہ معیشت کے 70 فیصد سے زائد رہنیکا خدشہ ہے، سال 2026 میں مہنگائی کی بڑھنے کی شرح 6.5 فیصد ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2026 تک ڈالرکا ایکسچینج ریٹ 6 فیصد مزید بڑھنیکا امکان ہے، رواں مالی سال معاشی شرح نمو 0.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، رواں مالی سال کے بجٹ میں معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد رکھنے کا ہدف تھا۔رپورٹ کے مطابق مالی سال2024 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 21 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 7.5 فیصد رہنیکا امکان ہے، مالی سال 2024 میں معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال2025 میں معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال 2026 میں معاشی ترقی کی شرح 5.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…