بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بڑا فیصلہ ہوگیا، ایف آئی اے کوپولیس اور رینجرز کی مدد سے کریک ڈاون کا حکم

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ملک بھر میں انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر اور منظم گروہوں کے خلاف پولیس اور رینجرز کی مدد سے کریک ڈان کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی طور پر اور جعلی ویزوں کے ذریعے شہریوں کو ملک سے باہر بھیجنے والے ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھی فوری ایکشن لیا جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو یہاں وزارتِ داخلہ میں دو مختلف اجلاسوں میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران کہی ۔ اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ داخلہ،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر امیگریشن، ڈائریکٹر پنجاب، ڈائریکٹر بلوچستان اور ڈائریکٹر اسلام آباد کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا انسانی سمگلنگ ، بچوں اور خواتین سے جبری مشقت، انسانی خرید و فروخت اور انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث عناصر نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث ہیں بلکہ معصوم اور ضرورت مند لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر شہریوںکو بیرون ملک بھیجنے کے واقعات میں اکثر اوقات قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی خبریں نہایت قابل تشویش ہے۔ ایسے عناصر کسی قسم کی بھی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوںنے کہا کہ ایف آئی اے اس سلسلے میں ایک مربوط اور منظم حکمت عملی مرتب کرے اور آئندہ ایک ماہ میں اس کے واضح نتائج سامنے آنے چاہیں

 

مزید پڑھئے:پیمرا حرکت میں آگیا

۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ پاک فغان بارڈر کے ذریعے غیر قانونی آمدورفت کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا جائے اور سرحد کی موثر طریقے سے نگرانی کی جائے۔ انہوں نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک و تعاون سے پاک افغان بارڈ کے ذریعے آمد و رفت کوکنٹرول کرنے کے لئے ایک مربوط اور منظم حکمت عملی اختیارکرے۔ میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے جبری مشقت اور دیگرانسانی حقوق کی پامالی کے دیگر سنگین واقعات پر بات کرتے ہوئے وزیرِداخلہ نے زور دیا کہ تمام سرکاری ادارے سول سوسائٹی کے تعاون سے اس اہم مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا ایف آئی اے ملک بھر سے اس سلسلے میں ڈیٹا اکٹھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…