اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں ٹی وی چینلز پر ایک قابلِ اعتراض اور نامناسب اشتہار کی نشریات کے خلاف سینکڑوں عوامی شکایات پر پیمرا نے تمام نجی ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیوز اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے ) کو مراسلے میں مذکورہ اشتہار پر فوری نظر ثانی کرنے کو کہا ہے۔ یاد رہے کہ پیمرا نے جولائی 2013?ء میں بھی اسی اشتہار پر بڑی تعداد میں عوامی شکایات کے پیشِ نظر جن میں یہ اشتہار زیادہ تر قابلِ اعتراض اور بیہودہ قرار دیا گیا تھا، پر پابندی لگائی تھی۔پیمرا نے اپنے ہدایت نامہ میں واضح کیا ہے کہ اشتہارکی منظر کشی ہماری سماجی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کے سراسر منافی ہے۔پیمرا نے مزید بتایا کہ عوامی شکایات کے قطع نظر اشتہار کا مواد پیمرا ایکٹ 2007کی سیکشن20(b), (c) & (f) ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 37(g) اور الیکٹرانک میڈیا ضابط اخلاق2015کی شق 14(1)(3)(d)کے بھی منافی ہے جس کے تحت کوئی پروگرام /اشتہار جوکہ اخلاقیات کے عام معیار کے منافی ہو ، نشر نہیں کیا جا سکتا ہے۔پیمرا نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے )، پاکستان ایڈورٹائزرز ایسوسی ایشن (پی اے ایس)اور تمام نشریاتی لائسنس یافتگان کو اشتہارکی مناسب نظر ثانی اور اقدار کے مطابق ہونے تک نشر نہ کرنے کو یقینی بنانے کا کہا ہے تاکہ عوامی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے
نجی ٹی وی چینلز پر فاش غلطی۔۔پیمرا حرکت میں آگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































