ڈیل کی خبریں پھر مسترد ،پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہوگی، شیخ رشید

  اتوار‬‮ 16 جنوری‬‮ 2022  |  15:16

راولپنڈی (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک بار پھر ڈیل کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہوگی ، اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑیگا،حکومت کے خلاف باتیں کرنے والے سارے چھانگا منگا کی پیدوار ہیں،عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے، شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں،اپوزیشن دو کی بجائے 3 مارچ کر لے، کچھ نہیں ہو گا،


23مارچ کو جے 10سی طیارے فلائی پاسٹ کریں گے،ہمارا ایک ہی مسئلہ مہنگائی ہے جو اپریل، مئی تک حل ہو جائے گا، بجٹ اچھا دیں گے،سانحہ مری پر نوجوان پولیس کے گلے پڑ رہے تھے اس لیے رینجرز بلانا پڑی، میں مری جاکر توجہ نہ دیتا تو 23 کی بجائے 40 لوگ مر جاتے،ماں بچہ ہسپتال کی تعمیر کی رفتار سے مطمئن نہیں ،وزیراعظم چاہتے ہیں 28 فروری تک اس کا افتتاح ہو ایسا لگتا نہیں۔ اتوار کو راولپنڈی میں ماں بچہ ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہماری سیاست لوگوں کی فلاح کیلئے ہے نقصان کیلئے پہنچانے کیلئے نہیں، ہسپتال کی تعمیر کی رفتار سے مطمئن نہیں ہوں، وزیراعظم چاہتے ہیں 28 فروری تک اس کا افتتاح ہو لیکن ایسا لگتا نہیں۔اپوزیشن لیڈر کے بیان کےحوالے سے شیخ رشید نے کہا کہ شہبازشریف عمران خان کے لیے ڈرائونا نہیں سہانا خواب ہیں، سیاست میں چاروں شریف مائنس ہیں، حکومت کے خلاف باتیں کرنے والے سارے چھانگا منگا کی پیدوار ہیں، یہ بزدلوں کا گروہ ہے جو پیسہ بنانے کیلئے سیاست کرتے ہیں تاہم ان کے نصیب میں پیسے بھی نہیں ہیں، سیاست دان دھرتی ماں کے لیے مرتا ہے لیکن یہ باہربھاگ گئے، دنیا میں ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جو حکومت گرانے سے زیادہ لندن بھاگنے پر محنت کرتے ہیں، بیماری کا ڈرامہ کرنے والے حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں، آئین ملک میں سیاست کریں مقابلہ کریں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ ان ہائوس تبدیلی خواب ہے، اپوزیشن جتنی مرضی کوشش کریں کچھ نہیں ہونے والا، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، فنانس بل پاس ہوگیا اور ان کے ممبران کم ہوگئے، یہ کہتے ہیں کہ فنانس بل اس لیے پاس ہوا کہ فون کال آئی، ان سے کہتا ہوں کہ عدم اعتماد لائیں پھر 25 ممبران کم ہوں گے پھر یہ کہیں گے فون کال سے ہوا۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ 23 مارچ کو عوام کا سمندر ہوگا، ان سے کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ آنے والے لوگوں سے زیادہ 23 مارچ کی پریڈ میں لوگ شریک ہوں گے،وزرات داخلہ راستے کھلے رکھے گی قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے تو راستے کھلے رہیں گے، انہیں کووڈ کا خیال رکھنا چاہیے اور قانون کا احترام کرنا چاہئے، ان سے کہتا ہوں کہ دو مارچ کرنے بعد ایک اور مارچ بھی کرلیں کچھ نہیں ہوگا۔شیخ رشید نے کہا کہ آئی ایم ایف میں 23 ویں دفعہ گئے ہر دفعہ آئی ایم ایف سخت ہوتا ہے، ان کی سختی اس لیے ہوئی کہ خزانے پربوجھ زیادہ ہیں، وزیراعظم نے کہا ہے کہ 3مہینے حکومت کیلئے بہت اہم ہیں، اپریل کے بعد حالات ٹھیک ہوجائیں گے، بلدیاتی انتخابات ہوں گے اس کے بعد عام انتخابات بھی ہوں گے،عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔سانحہ مری کے حوالے سے وزیرداخلہ نے کہا کہ وہاں صرف جانیں بچانے گیا، اگر میں مری جاکر توجہ نہ دیتا تو 23 کی بجائے 40 لوگمر جاتے، اللہ نے یہ کام مجھ سے لیا اور میں نے مری جاکر وزیراعظم کی منظوری سے فوج رینجرز کو بلا کر مری میں استعمال کیا، 23 افراد کی اموات بڑا واقعہ ہے، مری میں اب صوبائی معاملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان ہی پی ٹی آئی کا لیڈر ہے اور وہی رہے گا، عمران خان کے علاوہ باقی سب ہلکی پھلکی موسیقی ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بیوروکریسی طاقتور نہیں بلکہ ہمارے ان سے اچھے تعلقات ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎