شعیب اختر کا پاکستان سپر لیگ کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر سخت ناراضی کااظہار

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  0:01

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر اور تجزیہ کار شعیب اختر نے پاکستان سپر لیگ کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر سخت ناراضی کااظہار کیا ہے ۔شعیب اختر نے سوشل میڈیا اکائونٹس پر وڈیو پیغام میں سخت ناراضی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ٹیپ بال کرکٹ نہیں کروائی، وہ پی ایس ایل کروارہے ہیں۔ میں بہت زیادہ غصے میں ہوں کہ پی ایس ایل رکا اور خراب ہوا۔شعیب اختر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم دنیا کو کیا پیغام بھیج رہے ہیں، میں چاہتا ہوں اس معاملے کی معزز


لوگ تحقیقات کریں اور اسے بورڈ نہیں بلکہ حکومتی سطح پر دیکھا جائے۔واضح ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن ملتوی کردیا گیا ہے۔پاکستان سپر لیگ 6 میں شامل غیر ملکی کھلاڑی بین کٹنگ، کرس لن اور جیسن پلگرام نے ویکسین لگوالی ، کئی نے انکار کر دیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان سپر لیگ 6 میں شامل غیر ملکی کھلاڑی بین کٹنگ، کرس لن اور جیسن پلگرام نے کراچی میں قائم کورونا ویکسین کیمپ میں ویکسین لگوائی جبکہ کئی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں نے ویکسین لگوانے سے انکار کردیا۔واضح رہے کہ پی ایس ایل کے میچ کورونا وائرس کے سبب ملتوی کر دیے گئے۔ پی سی بی نے فیصلہ چھ کھلاڑیوں سمیت سات افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر اور تجزیہ کار شعیب اختر نے پاکستان سپر لیگ کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر سخت ناراضی کااظہار کیا ہے ۔شعیب اختر نے سوشل میڈیا اکائونٹس پر وڈیو پیغام میں سخت ناراضی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ٹیپ بال کرکٹ نہیں کروائی، وہ پی ایس ایل کروا رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎