گوادراسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ کرانے کا اعلان

  پیر‬‮ 22 فروری‬‮ 2021  |  20:26

گوادر(آن لائن)گوادر میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ کرانے کا اعلان،معروف ٹی وی اینکر اور گلوکار فخر عالم نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل6)کے بعد 25 مارچ کو گوادر کے خوبصورت کرکٹ اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مابین میچ کرایا جائے گا۔ سماجی رابطوں کیویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ گوادر میں ہم نے سپر کپ کا میچ کرایا جس میں پاکستان کرکٹ بور)(پی سی بی)کے سی ای او بھی کھیلے اور وہاں کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوئے۔انہوں نے بتایا


کہ میری کوشش تھی کہ پی ایس ایل چھ کا کوئی میچ گوادر میں کرایا جائے تاہم یہ گرانڈ ابھی آئی سی سی کے کچھ قوانین کے مطابق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بلوچستان حکومت کو باقاعدہ طور پر میچ کے حوالے سے آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے کوئٹہ گلیڈیٹر کو جوائن کرلیا۔وہ سہ روزہ قرنطینہ کے بعد پی ایس ایل 6 کیلئے اپنی ٹیم کو دستیاب ہوں گے،فرنچائز کی سیپلیمنٹری پک ڈیل اسٹین خاندانی مصروفیات کی وجہ سے ابتدائی دو میچز کا حصہ نہیں بن پائے۔کراچی آمد کے بعد جنوبی افریقی فاسٹ بولر کا کوویڈ 19 ٹیسٹ لیا گیا۔ واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان کی جگہ نوجوان آل راؤنڈر حسان خان کو ابتدائی میچز کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا تھا۔ گوادر میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ کرانے کا اعلان،معروف ٹی وی اینکر اور گلوکار فخر عالم نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل6)کے بعد 25 مارچ کو گوادر کے خوبصورت کرکٹ اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مابین میچ کرایا جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎