نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق رانا ثنا اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2022  |  23:43

لاہور (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کرنے دیں گے تاہم تحریک انصاف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تعین کردہ جگہوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتی ہے تو حکومت مکمل تعاون کریگی ، مسلح جتھوں کی صورت میں آئیں گے تو وفاقی حکومت ہر صورت روکے گی، پنجاب میں تبدیلی لانا کوئی مشکل نہیں،

ایک دو ووٹوں کا معاملہ ہے ،پی ٹی آئی کے پندرہ لوگ رابطے میں ہیں، پنجاب میں گورنر راج کا فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے،ملک کو نازک حالات سے نکالنے کیلئے مشکل فیصلے کئے جس وجہ سے مہنگائی کو کنٹرول نہ کرسکے،اسحاق ڈار کے آنے سے ہماری قتصادی ٹیم مضبوط ہوجائیگی، الیکشن جب بھی ہوئے نواز شریف اس سے پہلے پاکستان آجائیں گے،نئے آرمی چیف کی تعیانی اپنے وقت پر ہی ہوگی۔ہفتہ کو پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہاکہ ہم ایک تنظیمی پراگرام شروع کریں گے جس میں صوبائی اور مرکزی قیادت سے مختلف تنظیمی ٹیمیں پورے پنجاب کا ضلع وار ٹور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس دورے میں مریم نواز، حمزہ شہباز اور صوبائی تںظیم شامل ہوگی، یہ تنظیمی کام الیکشن کے حوالے سے پارٹی کے لیے اور پارلیمانی بورڈ کے لیے ایک اہم سروے ہوگا، اس کی بنیاد پر پارٹی کو آئندہ برس الیکشن کے سال میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم 15 اکتوبر سے اس دورے کا آغاز کررہے ہیں اور دسمبر 2022 تک ہم اس کو مکمل کریں گے تاکہ اس کے نتائج آئندہ انتخابی سال میں یہ پارٹی کو موثر رہنمائی فراہم کر سکیں۔ رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے کہا کہ اگر یہ لوگ ریاست پر چڑھ دوڑنے کے لیے آئیں گے اور ریڈ زون کی جانب بڑھیں گے تو یہ ہماری آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ ایسے گروہ کو روکا جائے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ 25 مئی کو ہماری تیاری نہیں تھی، اگر تیاری نہیں تھی تو یہ کس طرح 20 لاکھ لوگ لانے کا دعوی کررہے تھے؟ 25

مئی سے قبل یہ ڈیڑھ مہینے تک جگہ جگہ جلسے کرتے رہے، یہ تیاری نہیں تو اور کیا تھی، یہ درحقیقت ان کی ناکامی تھی جس کا انہیں اعتراف کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج ان کو اپنی تیاری چیک کرلیں، یہ بھی چیک کرلیں ہم بھی چیک کرلیں گے، آج شام کو ان کی تیاری سب کے سامنے آجائے گی، اس کے بعد دیکھ لیں گے کہ ان کی کیسی تیاری ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں یہ بات کی جارہی

کہ ہم ان کے خلاف کچھ زیادہ سختی کرنے والے ہیں، مجھے بتائیں کہ اگر ایک گروہ یہ کہے کہ ہم اسلام آباد پر چڑھائی کررہے ہیں تو ہم اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں؟ کیا ہم ان کے سامنے لیٹ جائیں کہ جی ٹھیک ہے آپ چڑھائی کرلیں اور اس ملک کو دنیا کے سامنے بنانا رہ پبلک بنا دیں؟ ظاہر ہے انہیں روکنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کو تب ہی روکیں گے جب وہ آئیں گے،

اگر وہ مسلح جتھے کو صورت میں نہیں آئیں گے تو ہم ان کو روکنے ان کے گھروں پر تو نہیں چلے جائیں گے، انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ 25 مئی کو یہ جن لوگوں کو ساتھ لے کر آئے تھے وہ مسلح تھے۔انہوں نے کہا کہ اب اگر انہوں نے مسلح جتھے کو لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کی تو انہیں روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات بروئے کار لانا ہوں گی اور ایسی کسی بھی کوشش کو روکنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ مسلح لوگوں کو لے کر آئے تو انہیں اسی انداز میں روکا جائے گا، اگر یہ صرف احتجاج ریکارڈ کروانے آئے تو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ عدالت کی جانب سے مختص جگہوں پر ہمیں انہیں بیٹھنے کہ جگہ بھی دیں گے اور سیکیورٹی بھی فراہم کریں گے، کھانے پینے کی چیزوں کی فراہمی بھی ممکن بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ ریاست پر چڑھ دوڑنے کے لیے آئیں گے

اور ریڈ زون کی جانب بڑھیں گے تو یہ ہماری آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ ایسے گروہ کو روکا جائے اور آئین و قانون کے مطابق ان کا موثر علاج بھی کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بھی نفری مانگی ہے، وہ جو بھی جواب دیں گے اسے ریکارڈ پر کھیں گے، جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ نفری ہمارے پاس موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ جتنی بھی طاقت کے استعمال کی ضرورت ہو

اسے بڑے احتیاط سے استعمال کیا جائے، نقصان کم سے کم ہو، اس کے لیے جو بھی طریقہ کار دنیا میں رائج ہیں ان سے استفادہ کیا جائے گا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دعوئوں کے برعکس مہنگائی پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا، وزیر اعظم شہباز شریف اس بات کے لیے بہت پرعزم تھے اور اب بھی ہیں کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کا معاہدہ ہوجائے گا

تو ہم فوری اس مسئلے پر توجہ دیں گے اور لوگوں کو ریلیف دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کی وجہ عمران خان کی ملک دشمن پالیسیاں تھیں، پہلے تو انہوں نے آئی ایم ایف سے ایک غلط معاہدہ کیا اور پھر جاتے جاتے اس معاہدے کی خلاف ورزی کردی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد ہم لوگونں کی ریلیف دینے اور مہنگائی کم کرنے کے قریب تھے

لیکن اللہ کے فیصلوں کے آگے انسان بے بس ہے، حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس حوالے سے پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا مدعا رکھا ہے اور بڑی محنت کی ہے، اس تباہی کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں، یہ کسی اور کا کیا دھرا ہے اور بھگتنا پاکستان کو پڑ رہا ہے، اس میں پوری دنیا شامل ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے بھی اس بات کی گواہی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب اس حوالے سے احساس بڑھ رہا ہے اور دنیا اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے آگے آرہی ہے، امید ہے ہم ان مشکلات پر قابو پالیں گے۔پنجاب میں اِن ہائوس تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جس عددی اکثریت کے ساتھ پرویز الہی وزیراعلی بنے ہیں

اس میں 2 یا 3 ووٹ ادھر ادھر ہونے سے تبدیلی آنا ممکن ہے، اس لیے پنجاب میں تبدیلی لانا کوئی مشکل نہیں ہے، پنجاب حکومت کے رویے کے پیش نظر یہ تبدیلی لانا ضروری ہے جو کہ ووٹ اور آئینی طریقے سے ممکن ہے۔انہوں نے کہا معاملہ صرف یہ ہے کہ ایک فیصلہ ہے جس کے مطابق ووٹ ڈالا جا سکتا ہے لیکن گنا نہیں جا سکتا، ہماری کوشش ہے کے اس فیصلے پر نظرثانی پر سماعت ہو،

اگر یہ فیصلہ راستے سے ہٹ جاتا ہے تو اگر ہم نہ بھی چاہیں تو تبدیلی آجائے گی۔سیاسی تنائو کی وجہ اہم تعیناتیاں ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح دباو میں آکر وقت سے پہلے نام کا اعلان کیا گیا یا اسے ٹالا گیا تو یہ اس ادارے کو تباہ کرنے والی بات ہوگی،

اس ادارے کی تباہی ملک کی تباہی ہے، اس طرح تو ہر 3 برس بعد لانگ مارچ ہونا شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعینانی اپنے وقت پر ہی ہوگی، جو طریقہ کار ہے اس کے مطابق ہی سب کچھ ہونا چاہیے۔اسحق ڈار کی واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ

اسحق ڈار آئندہ ہفتے کے اندر اندر وطن واپس آجائیں گے اور ہماری اقتصادی ٹیم کی نگرانی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں، پارٹی ان پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی تاہم ہم ان کی ہدیات پر اپنا جو تنظیمی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں اس کے اختتام کے بعد شاید واپسی کا اگلا پروگرام نواز شریف کا ہی ہو، انہوں نے آئندہ انتخابی مہم کی قیادت کرنے سے متعلق پارٹی کی درخواست کو مان لیا ہے، آئندہ سال انتخابات سے قبل نواز شریف پاکستان میں ہوں گے۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎