کیا ہم ان کو وزیراعظم بنانے کے لیے کوشش رہے ہیں؟ عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کے بعد واپسی پر جب جنرل فیض حمید نے یہ سوال پوچھا تو جانتے ہیں آرمی چیف نے کیا جواب دیا؟بڑا انکشاف

  اتوار‬‮ 7 اگست‬‮ 2022  |  12:00

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں انکشاف کرتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف بننے سے قبل عمران خان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی‘یہ بس اتنا جانتے تھے ان کے پاس دنیا کے 200 ماہرین ہیں اور

یہ آ کر ملک بدل دیں گے‘ قوم کی طرح فوج کو بھی ان پر یقین تھا‘ یہ یقین اور یہ احساس بہرحال چلتا رہا اور 2018ء کے الیکشن ہو گئے‘ اسٹیبلشمنٹ مانتی ہے ہم نے الیکشنز میں عمران خان کی سپورٹ کی لیکن یہ اس سپورٹ کے باوجود اکثریت حاصل نہ کر سکے اور مجبوراً دوسری سیاسی جماعتوں کو ان کے ساتھ بٹھانا اور چلانا پڑ گیااور یوں حکومت کا سارا بوجھ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آ گیا‘ وزیراعظم بننے سے چند دن قبل آرمی چیف اور جنرل فیض حمید عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالا گئے‘ یہ ویٹنگ روم میں انتظار کر رہے تھے اور عمران خان جاگنگ ٹرائوزر کے ساتھ پشاوری چپل پہن کراندر داخل ہو گئے‘یہ دونوں مستقبل کے وزیراعظم کو دیکھ کر پریشان ہوگئے‘ ملاقات ہوئی اور یہ دونوں جب باہر نکلے تو جنرل فیض حمید نے پوچھا ’’کیا ہم ان کو وزیراعظم بنانے کے لیے کوشش رہے ہیں؟‘‘ آرمی چیف نے ان کی طرف دیکھا اور خاموش ہو گئے‘ بہرحال عمران خان وزیراعظم بنے اور اس کے بعد سعودی شہزادے ہوں یا یورپ اور امریکا کے وزراء ہوں ان کو سب کو بنی گالا میں دھوپ میں بھی بیٹھنا پڑااور ٹرائوزر اور پشاوری چپل بھی دیکھنا پڑی اور وزیراعظم کا انتظار بھی کرنا پڑا‘۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎