ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اینکر عمران خان کیخلاف ایف آئی آر درج ، روپوش ہو گئے ، گرفتاری نہ دینے کا اعلان

datetime 22  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سینئر اینکر پرسن عمران ریاض خان پر بھی مقدمہ درج ہو گیا ہے،عمران ریاض خان مقدمے کی اطلاعات کے بعد رپورش ہو گئے ہیں اور گرفتاری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اطلاعات کے اس دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان نفرت انگیز گفتگو کرتا ہے۔

یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ یہ مقدمہ سندھ کے علاقہ ٹھٹھہ کے تھانے میں ہوا ہے ، اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ عمران ریاض خان پرالزام ہے کہ وہ اداروں کے خلاف کھُل کربات کرتے ہیں ۔ دوسری جانب معروف اینکر ارشد شریف نے اپنے خلاف مقدمہ پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی جسے سماعت کے لئے آج رات ہی مقرر کر دیا گیا ہے، انہیں رات ساڑھے گیارہ بجے عدالت طلب کر لیاگیا ہے، اس موقع پر عدالت نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ارشد شریف کی حاضری میں معاونت کریں۔واضح رہے کہ پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی پر اینکر پرسن ارشد شریف کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ تھانہ بی سیکشن پر شہری کی فریاد پر درج کروایا گیا، مقدمہ ملکی دفاعی ادارے کیخلاف ہرزہ سرائی اور نفرت پھیلانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ریاستی اداروں کیخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیا گیا، لطیف آباد میں نجی ٹی وی سے منسلک اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔طیب حسین نامی شخص نے ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کروایا، اینکر پرسن ارشد شریف پر یوٹیوب پر ریاستی اداروں کے خلاف زبان استعمال کرنے کا الزام ہے، مقدمہ 131,153,505 پی پی سی کی دفعات کے تحت درج کروایا گیا۔فریادی کے مطابق ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ یوٹیوب چینل پر پروگرام دیکھا،اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایف آئی آر میں نام اشرف شریف درج کیا۔

خیال رہے کہ نجی ٹی وی اے آر وائی کے دوصحافیوں ارشد شریف اور صابرشاکر کیخلاف مقدمات درج کرانے والا مدعی خود فراڈ اور اسمگلنگ کے مقدمات میں ملوث ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹیاری کا مدعی طیب حسین بھٹی جعلی وکیل، ایرانی ڈیزل چوری اور اسمگلنگ کے

مقدمے میں ملوث نکلا جبکہ دادو کے مدعی عامرعلی لغاری کی مجرمانہ سرگرمیاں بھی سامنے آگئیں۔نارشد شریف اور صابر شاکر کیخلاف اب تک درجنوں مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ مذکورہ مقدمات میں صحافیوں پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز ماحول پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ان مقدمات میں

دفعہ ایک سواکتیس، ایک سوتریپن اور پانچ سوپانچ شامل کی گئی ہیں۔موجودہ حکومت ہوگئی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی، صحافیوں کیخلاف ایف آئی آر پر ایف آئی آرز درج کروائی جارہی ہیں، ارشد شریف اور صابر شاکر جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا پرچم بلند کیا ان پر ہی اداروں کیخلاف نفرت پھیلانے کا الزام لگادیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…