سری لنکن شہری کا قتل ، 7مرکزی ملزمان نے اعتراف کرلیا پریانتھا کمارا کو کس طرح قتل کیا گیا؟افسوسناک انکشاف

  جمعرات‬‮ 20 جنوری‬‮ 2022  |  13:00

گوجرانوالہ (این این آئی)گوجرانوالہ پولیس نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا قتل کیس کے 7 مرکزی ملزمان کے کردار کا تعین کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم عمران اور حمیر نے پریانتھا پر قینچی سے وار کیے، حملے میں استعمال کی گئی دونوں قینچیاں برآمد کر لی گئی ہیں۔پولیس کےمطابق ملزم تیمور نے پریانتھا کمارا کو اینٹ ماری، ملزم علی اصغر نیلاش کو آگ لگائی، ملزم شہر یار اور بلال نے بیرونی دروازہ توڑ کر ہجوم کو اندر بلایا۔گوجرانوالہ پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم عبدالصبور بٹ نے فیکٹری ورکرز کو سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر حملے کے لیے اکسایا


تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر حملے کے ملزمان نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کر لیا ہے، ان تمام ملزمان کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں گوجرانوالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔گوجرانوالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق پریانتھا کیس کے ان 7 ملزمان کو اسپیشل سیل میں رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ (دسمبر میں) سیالکوٹ میں سیکڑوں مشتعل افراد نے سری لنکن شہری پر مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر ڈنڈے برسائے، اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، اس کی لاش کی بے حرمتی کی، گھسیٹا اور آگ لگا دی تھی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎