منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سری لنکن شہری کا قتل ، 7مرکزی ملزمان نے اعتراف کرلیا پریانتھا کمارا کو کس طرح قتل کیا گیا؟افسوسناک انکشاف

datetime 20  جنوری‬‮  2022 |

گوجرانوالہ (این این آئی)گوجرانوالہ پولیس نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا قتل کیس کے 7 مرکزی ملزمان کے کردار کا تعین کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم عمران اور حمیر نے پریانتھا پر قینچی سے وار کیے، حملے میں استعمال کی گئی دونوں قینچیاں برآمد کر لی گئی ہیں۔پولیس کے

مطابق ملزم تیمور نے پریانتھا کمارا کو اینٹ ماری، ملزم علی اصغر نیلاش کو آگ لگائی، ملزم شہر یار اور بلال نے بیرونی دروازہ توڑ کر ہجوم کو اندر بلایا۔گوجرانوالہ پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم عبدالصبور بٹ نے فیکٹری ورکرز کو سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر حملے کے ملزمان نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کر لیا ہے، ان تمام ملزمان کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں گوجرانوالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔گوجرانوالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق پریانتھا کیس کے ان 7 ملزمان کو اسپیشل سیل میں رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ (دسمبر میں) سیالکوٹ میں سیکڑوں مشتعل افراد نے سری لنکن شہری پر مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر ڈنڈے برسائے، اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، اس کی لاش کی بے حرمتی کی، گھسیٹا اور آگ لگا دی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…