منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

سانحہ مری، ٹوئٹرصارفین و سیاستدانوں کا وزیراعظم سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین برس پڑے اور ان سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی گئی کہ ’’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پرنہایت مضطرب اور دل گرفتہ ہوں، ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیرمعمولی برفباری اورموسمی حالات کوملحوظِ خاطر رکھے

بغیرلوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا‘‘’میں تحقیقات اور ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کرچکا ہوں‘‘۔وزیراعظم کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وزیراعظم سے ٹوئٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بے سمت حکومت کی حکمرانی کا فلسفہ ’مرے کو مارے شاہ مدار‘ ہے، کچھ بھی غلط ہوجائے ، اْس کا ملبہ کسی نہ کسی کے سر تھونپ دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 22 کروڑ لوگوں کے ملک کو وہ چلارہے ہیں جن میں ذمہ داری نبھانے اور حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹ شیئرکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بے رحمانہ، ظالمانہ اور احمقانہ ٹوئٹ واپس لو۔سینئر صحافی فہد حسین نے اپیل کہ اس ٹوئٹ کو پلیز ڈیلیٹ کردیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ کو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا اور لکھا کہ حکومت نے جو کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے اور اس کا ردعمل بھی اتنا ہی برا ہے۔صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھاکہ خان صاحب آپ ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ کوتاہی اور ناکامی آپکی حکومت اور انتظامیہ کی ہی ہے

لوگوں کی نہیں۔اس کے علاوہ سینئر صحافی ثاقب بشیر نے ٹوئٹ کرتے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹر کے کمالات ، وزیر اعظم کا ٹویٹر ہینڈل اتنا رف استعمال ہورہا ہے۔سینئر صحافی وقار بھٹی نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیشہ مصیبت میں پھنسے ہوئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کو ہی ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے اس حکومت کی جانب سے؟صحافی احمد ولید نے کہا کہ ایک گھنٹہ اتنی شدید تنقید کے بعد اب اردو میں بھی وہی الفاظ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…