جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ مری، ٹوئٹرصارفین و سیاستدانوں کا وزیراعظم سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین برس پڑے اور ان سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی گئی کہ ’’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پرنہایت مضطرب اور دل گرفتہ ہوں، ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیرمعمولی برفباری اورموسمی حالات کوملحوظِ خاطر رکھے

بغیرلوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا‘‘’میں تحقیقات اور ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کرچکا ہوں‘‘۔وزیراعظم کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وزیراعظم سے ٹوئٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بے سمت حکومت کی حکمرانی کا فلسفہ ’مرے کو مارے شاہ مدار‘ ہے، کچھ بھی غلط ہوجائے ، اْس کا ملبہ کسی نہ کسی کے سر تھونپ دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 22 کروڑ لوگوں کے ملک کو وہ چلارہے ہیں جن میں ذمہ داری نبھانے اور حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹ شیئرکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بے رحمانہ، ظالمانہ اور احمقانہ ٹوئٹ واپس لو۔سینئر صحافی فہد حسین نے اپیل کہ اس ٹوئٹ کو پلیز ڈیلیٹ کردیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ کو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا اور لکھا کہ حکومت نے جو کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے اور اس کا ردعمل بھی اتنا ہی برا ہے۔صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھاکہ خان صاحب آپ ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ کوتاہی اور ناکامی آپکی حکومت اور انتظامیہ کی ہی ہے

لوگوں کی نہیں۔اس کے علاوہ سینئر صحافی ثاقب بشیر نے ٹوئٹ کرتے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹر کے کمالات ، وزیر اعظم کا ٹویٹر ہینڈل اتنا رف استعمال ہورہا ہے۔سینئر صحافی وقار بھٹی نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیشہ مصیبت میں پھنسے ہوئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کو ہی ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے اس حکومت کی جانب سے؟صحافی احمد ولید نے کہا کہ ایک گھنٹہ اتنی شدید تنقید کے بعد اب اردو میں بھی وہی الفاظ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…