جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سانحہ مری، ٹوئٹرصارفین و سیاستدانوں کا وزیراعظم سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ

datetime 8  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین برس پڑے اور ان سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی گئی کہ ’’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پرنہایت مضطرب اور دل گرفتہ ہوں، ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیرمعمولی برفباری اورموسمی حالات کوملحوظِ خاطر رکھے

بغیرلوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا‘‘’میں تحقیقات اور ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کرچکا ہوں‘‘۔وزیراعظم کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وزیراعظم سے ٹوئٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بے سمت حکومت کی حکمرانی کا فلسفہ ’مرے کو مارے شاہ مدار‘ ہے، کچھ بھی غلط ہوجائے ، اْس کا ملبہ کسی نہ کسی کے سر تھونپ دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 22 کروڑ لوگوں کے ملک کو وہ چلارہے ہیں جن میں ذمہ داری نبھانے اور حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹ شیئرکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بے رحمانہ، ظالمانہ اور احمقانہ ٹوئٹ واپس لو۔سینئر صحافی فہد حسین نے اپیل کہ اس ٹوئٹ کو پلیز ڈیلیٹ کردیں۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی ٹوئٹ کو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا اور لکھا کہ حکومت نے جو کیا ہے وہ ناقابل معافی ہے اور اس کا ردعمل بھی اتنا ہی برا ہے۔صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھاکہ خان صاحب آپ ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ کوتاہی اور ناکامی آپکی حکومت اور انتظامیہ کی ہی ہے

لوگوں کی نہیں۔اس کے علاوہ سینئر صحافی ثاقب بشیر نے ٹوئٹ کرتے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹر کے کمالات ، وزیر اعظم کا ٹویٹر ہینڈل اتنا رف استعمال ہورہا ہے۔سینئر صحافی وقار بھٹی نے بھی وزیراعظم کی ٹوئٹ پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیشہ مصیبت میں پھنسے ہوئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کو ہی ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے اس حکومت کی جانب سے؟صحافی احمد ولید نے کہا کہ ایک گھنٹہ اتنی شدید تنقید کے بعد اب اردو میں بھی وہی الفاظ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…