اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت ایران میں موجود نہیں اور انہیں علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ فضائی حملوں کے دوران زخمی ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو طبی معائنے اور سرجری کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو لے جایا گیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تہران پر 28 فروری کو ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں وہ زخمی ہوئے تھے۔برطانوی اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہیں ایک روسی فوجی طیارے کے ذریعے خفیہ طور پر ماسکو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ٹانگ کی سرجری کی گئی۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاج ایک خصوصی طبی مرکز میں کیا گیا جس کا انتظام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کیا گیا تھا۔کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق سرجری کامیاب رہی ہے اور یہ معلومات ایک ایسے ذریعے سے سامنے آئی ہیں جس کا تعلق ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں سے بتایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زخمی ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو فوری طور پر خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ماسکو منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ روسی قیادت نے اس حوالے سے ایران کو طبی تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا اور مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔



















































