اسلام آباد (نیوز ڈ یسک ) گوجرانوالہ کے علاقے گرجاکھ میں ماں اور بیٹی کی ہلاکت کے کیس میں تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
گرفتار ملزم یاسر نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ واردات سے قبل خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں اسے بتایا کہ یہ سب اس کے شوہر کے کہنے پر کیا ۔سی پی او ڈاکٹر غیاث گل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مقتولہ کے شوہر مصطفیٰ اور اس کے ساتھی یاسر نے جرم قبول کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق شوہر نے دوسری شادی کی خواہش میں اپنی بیوی کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔تحقیقات کے مطابق ملزم یاسر جوئے میں رقم ہارنے کے باعث قرض میں ڈوبا ہوا تھا، جسے مصطفیٰ نے ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض واردات پر آمادہ کیا۔ منصوبے کے تحت شوہر گھر سے باہر چلا گیا جبکہ یاسر گھر میں داخل ہوا۔پولیس کے مطابق ملزم نے خاتون پر تشدد اور زیادتی کے بعد اسے جان سے مار دیا۔ اسی دوران جاگنے والی تین سالہ بچی کو بھی شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے نشانہ بنایا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ایم این اے شاہد عثمان پر کیس میں مداخلت سے متعلق سوال کیا، تاہم سی پی او اور ایم این اے دونوں نے اس الزام کی تردید کی۔دوسری جانب عدالت نے دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔



















































