جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی دھماکے میں 8افراد جاں بحق،دھماکہ کس نوعیت کا تھا؟ابتدائی تفصیلات آگئیں

datetime 18  دسمبر‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے شیر شاہ کے پراچا چوک پر ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے۔دھماکا ایک نجی بینک میں ہوا جس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے پلرز اکھڑ گئے، زوردار دھماکے سے قریبی واقع پیٹرول پمپ کے علاوہ متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلز

کو بھی نقصان پہنچا۔قبل ازیں ڈاکٹر رْتھ فاؤ سول ہسپتال برنس سینٹر کے میڈیکل سرجن (ایم ایس) ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا تھا کہ 8 افراد کی لاشیں لائی گئیں۔بعدازاں ترجمان کراچی پولیس کے جاری کردہ ایک بیان میں دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد کے جاں بحق اور 12 زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ عمارت نالے پر قائم تھی، بظاہر لگتا ہے کہ نالے میں گیس جمع ہوجانے کی وجہ سے دھماکا ہوا تاہم حتمی وجہ کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) ایس پی اور دیگر پولیس افسران جائے وقوع پر موجود ہیں۔ترجمان کراچی پولیس نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کی جانچ کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ طلب کر لیا گیا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی دھماکے کی وجہ کا تعین کیا جائے گا۔علاقے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ظفر علی شاہ نے بتایا کہ بینک کی عمارت نالے پر تعمیر تھی جنہیں کچھ عرصے قبل نوٹس دیا گیا تھا کہ نالے کی صفائی کے

لیے بینک کو خالی کردیں۔دھماکے کے فوری بعد علاقہ مکین اور ریسکیو ٹیمز جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ترجمان رینجرز کے مطابق دھماکے کی وجہ کا تعین کیا جارہا ہے اور رینجرز کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیراؤ کرلیا۔گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…