منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کی 30 ہزار اسامیاں خالی ہونے کا انکشاف

datetime 28  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کی 30 ہزار خالی اسامیوں پر اظہار تشویش کیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے رحیم یارخان مندر حملہ از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔چیئرمین ون مین کمیشن شعیب سڈل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اقلیتوں کیلئے سرکاری نوکریوں میں 5 فیصد

کوٹا مختص ہے، اقلیتوں کے مختص شدہ سرکاری نوکری کوٹے میں ہندو، مسیح، سکھ یا دیگر سے متعلق وضاحت نہیں، اقلیتوں کی اس وقت پورے ملک میں 30 ہزار سرکاری اسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ نے اقلیتوں کی سرکاری نوکریوں میں 30 ہزار خالی اسامیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وفاق، پنجاب، کے پی اور بلوچستان حکومت اقلیتوں کے کوٹے پر بھرتیاں نہیں کر رہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی چیف سیکریٹری ون مین کمیشن سے تعاون کریں، متعلقہ اتھارٹیز اقلیتوں کی نوکریوں سے متعلق معاملات پر جلد اقدامات کر کے رپورٹ جمع کرائیں۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ رحیم یار خان مندر کی دوبارہ تعمیر کی جا چکی ہے، بھونگ میں پولیس اسٹیشن کے قیام کے لیے رئیس منیر احمد نے 10 کنال زمین پنجاب پولیس کو تحفے کے طور پر دی ہے، ملتان سکھر موٹر وے پر صادق آباد انٹرچینج کی تعمیر کے لیے رئیس منیر 25 ایکڑ زمین تحفے کے طور پر دینے کو تیار ہیں، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سیکریٹری پلاننگ آئندہ سماعت

پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور صادق آباد انٹرچینج کی تعمیر سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں۔چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین این ایچ اے سے استفسار کیا کہ آپ نے موٹر ویز اور ہائی ویز کا حال دیکھا ہے؟ کیا آپ نے چترال گلگلت ہائی وے کی حالت دیکھی ہے؟ مجھے بتایا گیا ہے کہ کاغذوں میں تین بار چترال گلگت ہائی وے بن چکی ہے، سندھ میں تو موٹر وے بس نام کی ہی ہے، ملتان سکھر موٹر وے پر کوئی ریسٹ رومز موجود نہیں، جس پر چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ ہم اقدامات کر رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…