جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کا ایسا غریب نوجوان جس کے پاس اسلام آباد آنے کیلئے کرائے کے پیسے تک نہیں تھے ، ٹکٹ نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر گھر بیٹھ گیا مگر جب اہل علاقہ نے اسے آزاد الیکشن لڑوایا تو اس نے پی ٹی آئی کے کس رہنما کو چت کر دیا، حیران کن کہانی

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی مظہر برلاس اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ تیمور علی بھٹی جھنگ کے دیہی علاقے کارہنے والا ہے ۔ یہ نوجوان پی ٹی آئی سے وابستہ تھا مگر پی ٹی آئی نے اسےٹکٹ نہ دیا۔ یہ نوجوان آزاد کھڑا ہو گیا۔ تیمور علی بھٹی نے مخالف امیدوار کو 13ہزار ووٹوں کے مارجن سے ہرایا

جبکہ پی ٹی آئی کا امیدوار تیسرے نمبر پر آیا۔ اگر تحریک انصاف سے اتنا ہی لاڈ تھاتو پھر تیمور بھٹی کیسے جیت گیا اور پی ٹی آئی کا امیدوار تیسرے نمبر پر کیسے آیا؟ کوٹ ادو کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں سے ایک نوجوان شبیر قریشی نے دس سال سے پی ٹی آئی کا پرچم تھام رکھا تھا مگر پارٹی نے اس نوجوان کو ٹکٹ کے قابل نہ سمجھا اور ٹکٹ سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھرکودے دیا۔ شبیر قریشی معاشی حالت کابہانہ بناکرگھربیٹھ گیا مگر اس کے دوستوں نے نہ بیٹھنے دیا۔ خیر یہ نوجوان آزاد حیثیت میں امیدوار بن گیا۔ الیکشن ہوا توشبیر قریشی نے مصطفیٰ کھر کو شکست دے دی۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں نے عمران خان کے ٹکٹوں کے غلط فیصلوں کو مسترد کیا لیکن پی ٹی آئی فیس کو مسترد نہیںکیا۔ پی ٹی آئی نے جیتنے کے لئے کسی بڑے لیڈر کو ٹکٹ دیا مگر لوگوں نے اس نوجوان کو آزاد حیثیت میں جتوا دیا جس نے برسوں پی ٹی آئی کے لئے دھکے کھائے تھے۔ایسا جگہ جگہ ہوا۔ ملتان میں جس نوجوان نے شاہ محمود قریشی کو صوبائی نشست پر شکست دی وہ بھی پی ٹی آئی ہی کا تھا۔ اسی طرح فیصل آباد سے اجمل چیمہ اور لیہ سے ڈاکٹر رندھاوا آزاد حیثیت میں جیتے۔واضح رہے کہ عمران خان کے ٹکٹوں کی تقسیم پر فیصلوں کو پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے نہایت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پورے ملک سے کارکن شدید احتجاج کرتے ہوئے بنی گالا میں احتجاج کیلئے جمع ہو گئے تھے جن کو انتہائی کوششوں کے بعد مطمئن کر کے گھروں کو واپس بھیجا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…