حریم شاہ اور صندل خٹک کے خلاف متنازع ویڈیوز اپ لوڈ کرنے پر پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا، ٹک ٹاک سٹارز بھی ڈٹ گئیں

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  21:52

اسلام آباد (این این آئی) موبائل و انٹرنیٹ سے متعلق پاکستان کے ریگولیٹر ادارے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (پی ٹی اے) نے چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر متنازع ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی پاکستانی اسٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔حریم شاہ اور صندل خٹک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر کئی متنازع ویڈیوز اپ لوڈ کیے جانے کے بعد پی ٹی اے نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے رابطہ کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے مذکورہ ماڈلز کے خلاف متعدد تحریری شکایات موصول ہونے کے بعد ٹک ٹاک انتظامیہ سے


مطالبہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو دونوں ماڈلز کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے خط بھیج دیا۔پی ٹی اے نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حکومت پاکستان نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے ماڈلز کے خلاف کس طرح کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم تاحال ٹک ٹاک انتظامیہ نے پاکستانی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی تاحال دونوں ماڈلز کے اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے۔17 جنوری تک دونوں ماڈلز کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ موجود تھے اور پی ٹی اے کی درخواست کے حوالے سے بھی دونوں ماڈلز نے کوئی وضاحت جاری نہیں کی تھی۔اگرچہ پی ٹی اے نے پہلے بھی ٹک ٹاک انتظامیہ سے متنازع ویڈیوز ہٹانے کے مطالبات کیے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے ویڈیو شیئرنگ ایپ سے حریم شاہ اور صندل خٹک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پی ٹی اے نے دونوں اسٹارز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ دونوں ماڈلز کے خلاف سیاستدان بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم دوسری جانب حریم شاہ اور صندل خٹک کا ماننا ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہیں۔پی ٹی اے سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے بھی دونوں ماڈلز کے خلاف تحقیقات کے آغاز کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔اور ایف آئی اے کی جانب سے نامعلوم الزامات کے معاملے پر ماڈلز کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے 16 جنوری کو صندل خٹک نے لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست بھی جمع کرائی تھی۔صندل خٹک نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ ایف آئی اے انہیں ہراساں کر رہی ہے اور انہیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف کس الزام کے تحت تحقیقات ہو رہی ہیں۔صندل خٹک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے انہیں 2 بار گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں تفتیش کے لیے ایف آئی اے پیش ہونے کا کہا تھا اور انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے خلاف کس چیز کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔صندل خٹک نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ایف آئی اے سے ان کے خلاف تحقیقات کرنے کی دستاویزات طلب کی جائیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کو انہیں ہراساں کرنے سے روکا جائے۔عدالت نے صندل خٹک کی درخواست پر ایف آئی اے کو آئندہ ماہ 4 فروری کو طلب کرلیا تھا۔

موضوعات: