نامناسب اور نفرت انگیز پیغامات کیخلاف ٹوئٹر بھی کمر بستہ

  جمعرات‬‮ 18 اکتوبر‬‮ 2018  |  11:40

نیو یارک(آئی این پی)نامناسب اور نفرت انگیز پیغامات کے خلاف ٹوئٹر نے بھی کمر کس لی ہے،غیر اخلاقی اور نفرت انگیز الفاظ اور پیغامات حذف کر دئیے جائیں گے، نامناسب اور نفرت انگیز الفاظ کی صورت میں ٹوئیٹ پر ایک گرے رنگ کا باکس واضح کیا جائے گا، جس میں اس ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا پیغام ہوگا،ٹوئیٹ ڈیلیٹ ہونے کے 14 روز بعد بھی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جاری ہونے والا گرے باکس نمایاں رہے گا۔بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ سے اب تک ٹوئٹر کمپنی کی جانب سے پیغامات میں غیر اخلاقی زبان


اور نامناسب الفاظ کے استعمال کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے سخت اقدامات جاری ہیں، کمپنی کی جانب سے کئی مرتبہ صارفین کو خبردار بھی کیا جاچکا ہے اور اب ٹوئٹر نے ایک بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کردیا۔گزشتہ روز ٹوئٹر نے اپنی بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا کہ جو صارفین پیغامات شیئر کرتے ہوئے نازیبا الفاظ کا استعمال کریں گے یا کسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر اخلاقی رویہ اختیار کریں گے، ان کی ٹوئٹس حذف (Delete) کردی جائیں گی۔کمپنی کے مطابق جب کسی ٹوئیٹ کے حوالے سے یہ تصدیق کرلی جائے گی کہ یہ نامناسب یا نفرت انگیز ہے تو اس صورت میں ٹوئیٹ پر ایک گرے رنگ کا باکس واضح کیا جائے گا، جس میں اس ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا پیغام ہوگا۔یعنی ٹوئٹر کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی پیغام شیئر کیا جائے گا تو وہ حذف ہوجائے گا، جس کے ساتھ درج پیغام میں واضح کیا جائے گا کہ یہ ٹوئیٹ اب دستیاب نہیں کیونکہ یہ ٹوئٹر قوانین کے خلاف ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی بھی صارف کی جانب سے اگر کسی دوسرے صارف کی ٹوئیٹ کو رپورٹ کیا جائے گا تو اس اصول کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بھی ٹوئیٹ حذف کردی جائے گی۔ٹوئیٹ ڈیلیٹ ہونے کے 14 روز بعد بھی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جاری ہونے والا گرے باکس نمایاں رہے گا۔یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ صارف آئندہ نامناسب ٹوئیٹ پوسٹ نہ کر سکے۔ٹوئیٹس حذف کرنے کا یہ عمل آج سے شروع ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ٹوئٹر کی ٹرسٹ اور سیفٹی کونسل کی دو اراکین ڈیل ہاروے اور وجے گیڈی نے بتایا تھا کہ ٹوئٹر کی ہیٹ فل کنڈکٹ پالیسی یعنی نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے کام کرنے والی پالیسی کو مزید سخت کیا جارہا ہے تاکہ ٹوئٹر پر لوگ شگفتہ زبان میں گفتگو کرسکیں۔


موضوعات: