پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کو ریلیف، آئی ٹی پر ٹیکس ختم کرنے کا امکان

datetime 31  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)فاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2023-24 کے وفاقی بجٹ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق سروسز کی برآمدات کو فروغ دینے کیلئے آئی ٹی و آئی ٹی سے متعلق سروسز پر عائد 0.25 فیصد ٹیکس ختم کئے جانے کا امکان ہے اس کے علاوہ تنخواہ دار ملازمین و و تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینے کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن باسٹھ اور چونسٹھ بحال کرنے اور ہاؤس لون پر ٹیکس کریڈٹ کی اجازت سمیت دیگر تجاویز زیر غور ہیں۔

اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کیلئے تجاویز کو حتمی شکل دینے کیلئے جائزہ لے رہا ہے۔ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 149 کے تحت تنخواہ دار ملازمین کی تخمینہ شدہ تنخواہ پر اوسط ٹیکس ریٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کی جاتی ہے جس کے باعث زیادہ تر ملازمین کی تنخواہوں سے زیادہ ٹیکس کٹوتی اور انکے ٹیکس گوشوراوں میں زیادہ ٹیکس ہونے کے باعث ریفنڈ کلیم بنتے ہیں۔حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سیکشن باسٹھ اور چونسٹھ بحال کرنے کی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جس سے تنخواہ دار ملازمین کو فائدہ ہوگا۔

اس کے علاوہ سیکشن باسٹھ اے بھی بحال کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس سے ہاؤس لونز پر ٹیکس کریڈٹ کی سہولت میسر ہوسکے گی۔اسی طرح تنخواہ دار ملازمین کو سیکشن ساٹھ،سیکشن ساٹھ سی کے تحت زکوۃ اور منافع سمیت دیگر قابل کٹوتی الاونسز پر بھی ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت کی تجویز زیر غور ہے۔آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق سروسز کی برآمدات کو فروغ دینے کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 154 کے تحت عائد 0.25 فیصد ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس سے چھوٹ دینے سے بھاری زرمبادلہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…