ڈیزل پر ڈیزل اور پیٹرول پر کتنے روپے لیوی لی جا رہی ہے،تفصیلات سامنے آگئی

  منگل‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2022  |  23:30

اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں چیئرمین سینٹ نے سول سرونٹس کوجج تعینات کرنے سے متعلق متعدد سوالات کو متعلقہ کمیٹی میں بھیج دیا،حکومت نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ سمیت سندھ،کے پی کے ،بلوچستان اور اسلام آباد میں 44جج تعینات کرنے ہیں ،سول سرونٹس سے متعلق جج بنانے کا قانون موجود ہے ،سینٹ کو بتایا گیا کہ ڈیزل پر 13روپے،پٹرول32روپے بیالیس پیسے لیوی لی جا رہی ہے ،

اور آئی ایم ایف معائدہ کے مطابق حکومت نے 50روپے لیوی وصول کرنی ہے ،جو کہ اب بھی حکومت لیوی کم لے رہی ہے ،حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اشیا ئے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ،روپے کی قدر جیسے ہی بڑھے گی مہنگائی کم ہوگی،گوردواہ میں اخراجات سے متعلق وزارت مذہبی امور کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ دینے پر اقلیت کے سینیٹرزنے وزارت مذہبی امور میں پارلیمانی سیکرٹری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا سیکرٹری رکھ لیتے از کم عزت او احترام سے جواب تو ملتا،مولانا کوہماری عبادت گاہوں کا معلوم ہی نہیں،وفاقی وزیر مذہبی امور نے جواب دیا کہ اقلیت کو تکلیف ہے کہ میں مولوی کیوں وزیر ہوں،میرے قران ،میرے مذہب نے اقلیت کو حق دیا ہے ،میں ان کا تحفظ کرتا ہوں،چار سال قبل یہ سوال کیوں نہ کیا گیا،وہ گند میں صاف نہیں کر سکتا،اس موقع پر اقلتی ارکان نے اپنی توہین قرار دیتے ہوئے کہ واک آوٹ کر گئے ،چیئرمین سینٹ نے بار بار کہا کہ پیٹ میں درد والی بات واپس لیں،جس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ جو کہا ٹھیک کہا،اپوزیشن نے وقفہ سوالات میں ہر ممبر کو بولنے کا حق ہے ،وزیر اپنے الفاظ واپس لیں ،الفاظ واپس نہ لینے پر اپوزیشن بھی واک آوٹ کر گئی،گزشتہ روز وقفہ سوالات میں ایوان بالا میں میں انکشاف ہوا ہے کہ سپیشل اکنامک زون میں کمی ہوئی ہے ،جس پر سینٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ کرونا تو 2021میں زیادہ تھا اور اب تو کرونا نہ ہونے پر ہے ،پھر بھی انوسمنٹ کم ہوئی ہے ،جس پر حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کرونا کی وجہ سے کمی آئی ہے لیکن اب فیز ٹو میں انڈسٹری کی جانب بڑھ رہے ہیں اور انکے بہتر رزلٹ آئیں گے ،سپیشل اکنامک زون پنجاب دس،کے پی کے دو،سندھ تین اور اسلام آباد میں ایک زون ہے

،سینٹر عرفان صدیقی نے سوال کیا کہ دوسرے فیز میں کچھ پیش رفت کب تک ہونی ،فیز ون کب مکمل ہوا،جس پر جواب میں بتایا گیا کہ ریلوے کے پراجیکٹ کچھ تاخیر کاشکار ہوئے ہیں،ڈیڑھ سال تک تاخیر کا شکار ہوا،لیکن اب کوئی معاملہ نہیں ہے ،ایوان میں مصدق ملک نے بتایا کہ سوئی سدرن کی ریونیو شائع ہو چکی ہے ،اور اس کے بعد آڈٹ ہو گا،بلوچستان میں کوئی پے منٹ بقایا ہوئی تو یقین دلاتا ہوںکہ وہ فوری ادا کیا جائے گا

،وزیر مملکت پٹرولیم نے مزید بتایا کہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے نئے بلاکس کے لیے لے آوٹ بنا رہے ہیں،اور وہاں نئی انوسٹمنٹ ہوگی اور یقینا وہاں انکا منافع ہی بڑھے گا،پاک عرب فرٹیلائزر کمپنی یو اے ای شیئر ہولڈرز ہے ،انکے ساتھ بھی معائدہ ہوا ہے کہ وہ انوسٹمنٹ مزید کرے گی،یہ بات بھی درست ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے ان کا منافع نظر نہیں آتا،مصدق ملک نے بتایا کہ

علاقائی ڈیویلپمنٹ کچھ کمپنیاں کر رہی ہوتی ہے اور سی ایس آر سے متعلق مزید جواب تفصیل سے دیا جائے گا،پٹرولیم میں 45سے 50فیصد شئیر حکومت کا ہوتا ہے ،اس کے علاوہ نجی کمپنیوں کا شیئر ہوتا ہے ،ڈیزل میں 56سے 70فیصد شیئرپی ایس او کا ہوتا ہے ،اور یہ اس لیے ہے کہ کویت سے ہمارا کنٹریکٹ ہے اور اس کے پیش نظر پی ایس او کو ملتا ہے ،سینڑز نے سوال کیا کہ

اتنا پٹرول لوکو موٹو کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے ،اس حوالہ سے دھواں دھار کی وجہ سے آبادی بھی متاثر ہو رہی ہے ،اور ا س پر الیکٹرک موٹر کو پروموٹ کی جائے تو ہم بہت سارے مسائل سے بچ جائیں گے ،مصدق ملک نے بتایا کہ ہمارے ملک میں ٹمپریچر انتہا کو پہنچتا ہے ،

گرمیاں بھی شدید اور سردیا ں بھی شدید ہوتی ہیں ،ہمارے پاس بیس ہزار میگا واٹ بجلی تقسیم کرنا ہونگی،ڈیزل سے بجلی مہنگی بنتی ہے ،میرے خیال میں ڈیزل سے چلنے والے پراجیکٹ کو ریٹائر کر دینا چاہے،ایک اور سوال کیا گیا کہ سندھ میں پٹرول کی لائنوں سے تیل چوری کر لیا جاتا ہے ،اس کا سدباب کیا گیا ہے یا نہیں،مصدق ملک نے کہا کہ پائپ لائنوں سے چوری نہیں ہوتی ،ٹرکوں کے ذریعہ چوری کا زیادہ اندیشہ ہے ،

جس پر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پائپ لائنوں سے تیل چوری کی ایف آئی آرز موجود ہیں ،جس پر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اس چیز کا معلوم نہیں ہے ،ایک اور سوال پوچھا گیا تھا کہ سول سرونٹ جج کیوں نہیں بن سکتا ،جس کا جواب دیا گیا کہ اٹھارویں ترمیم میں یہ اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے ،اور آئین کہتا ہے کہ جو کہ دس سال کا تجربہ رکھتا ہو وہ جج بن سکتا ہے ،ڈی سی ،کمشنر ،ریونیو،سب کورٹ چلاتے ہیں،

کیا انکو جج نہیں بنایا جا سکتا ،جس پر وزیر مملکت برائے قانون نے بتایا کہ 193آرٹیکل میں کوالیفکیشن دی گئی ہے ،اور جب تجویز چیف جسٹس سے لی جاتی ہے ،اس وقت لاہورہائی کورٹ میں تیرہ،سندھ میں نو،پشاور پندرہ،بلوچستان چھ اور اسلام آباد میں ایک جگہ خالی ہے،آئین میں گنجائش ہے کہ جوڈیشل کمیشن اس معاملہ کو زیر غور لائے تو یہ کمی پوری کی جاسکتی ہے ،تاہم اس معاملہ کو کمیٹی میں بھیج دیا گیا ،

حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایم ایف معائدہ کے تحت حکومت پچاس روپے لیوی پٹرول پر لے گی،مگر اب پٹرول پر 32روپے ،ڈیزل 12روپے لیوی وصول کی جار ہی ہے ،مارچ سے لیکر اب تک فوڈ آئل اور پٹرولیم پراڈکٹ کتنے پر تھی اور آج کتنی ہے ،مصدق ملک نے جواب دیا کہ جی سی سی سے جو تیل خریدتے ہیں اور وہ پلیٹس کے مطابق 30 فیصد آضافہ ہواہے ،روپے کی قدر میں کمی کی

وجہ سے کچھ رقم ہمیں آضافی دینا پڑتا ہے ،وزیر مذہبی امور مفتی شکورنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گوردوارہ میں خرچہ حکومت کانہیں ہوتا ،سکھوں کی ایک کمیٹی خود مختار ہوتی ہے اور وہ اس کا حساب رکھتی ہے ،دربار اور انکی درگاہ کی گولک سے جو لیا جاتا ہے وہ کمیٹی اسی سے کرتی ہے ،کروڑوں روپے خرچ کا سوال کا جواب انہوںنے دیا ہے ،ہم نے نہیں ،سینٹر دنیش کمار نے کہا کہ

اس معاملہ کو کمیٹی میں بھیجا جائے میں وہاں ثبوت پیش کروں گا کہ وہاں کتنی کرپشن کی جا رہی ہے ،اس پر مفتی شکور نے جواب دیا کہ عبادت گاہوں پر تو خرچ محکمہ اوقاف کا ہوتا ہے ،ایک سوال کیا گیا کہ سکھ،کمیٹی کون بناتا ہے اور یہ کس کے ماتحت ہوتی ہے ،پے در پے سوالات پر اس معاملہ کو کمیٹی میں بھیجنے کا حکم دیدیا گیا،دنیش کمار نے سوا ل اٹھایا کہ کاش وزارت مذہبی

امور میں پارلیمانی سیکرٹری ہمارا غیر مسلم ہوتا تو زیادہ خوبصورتی سے جواب دیا جا تا،اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور الفاظ واپس لیں ،نہیں تو ہم بھی واک آوٹ کریں گے ،تاہم الفاظ واپس نہ لینے پر وہ واک اوٹ کر گئے ،مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سینٹ میں جو طریقہ اپنایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ،یہ سنجیدہ ایوان ہے ،سوال پر جواب دیا جاتا ہے اس کا بھی برا منایا جا تا ہے ،یہ جمہوریت کے لیے کوئی اچھی بات نہیں ،۔



زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎