وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیردفاع پرویزخٹک آمنے سامنے آگئے

  بدھ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2022  |  0:01

نوشہرہ (آن لائن)نوشہرہ کے سب سے بڑے ہسپتال قاضی حسین احمد میڈئکل کمپلکس نوشہرہ میں پاور گیم کی رسہ کشی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیردفاع پرویزخٹک آمنے سامنے آگئے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حمایت یافتہ چیرمین بورڈاف گورنرز ڈاکٹر نورالایمان نے پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کے منحرف ممبر صوبائی اسمبلی لیاقت خٹک کے 71 حامی ملازمین کونوکریوں سے برطرف کرنے کے بعد وفاقی وزیردفاع پرویز خٹک کے قریبی دوست اور رائٹ ہینڈ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا۔چیرمین بورڈاف گورنرز ڈاکٹر نورالایمان نے اپنے نو 9 منظور نظر ساتھیوں کو بڑے بڑے عہدوں پر تعینات


کر دیا ہے۔قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ھسپتال میں نئی بھرتیوں میں منظور نظر افراد کو نوازنے پر بورڈ آف گورنرز نے علم بغاوت بلند کردیا، قاضی میڈیکل کمپلکس کے بوڑڈ آف گورنرز کے چارممبر مستغی، بورڈ ختم مستعفی بورڈ آف گورنرز کے چاروں ممبران کا تعلق وفاقی وزیردفاع پرویز خٹک گروپ سے ہے۔زرائع کے مطابق بوڑڈ آف گورنرز سے مستعفی ہونے کا اعلان ملک آفتاب اور انجم خٹک نے میڈیا کے سامنے چیرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر نور الامین کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کیا۔دونوں مستعفی ہونے والے ممبران نے الزام لگایا کہ چیرمین بورڈاف گورنرز ڈاکٹر نورالایمان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر قرار دے کر ہسپتال میں نوشہرہ کے ملازمین کے سرکاٹنے اور اپنے علاقے کے افراد کو / چار/ پانچ لاکھ /کی تنخواہوں سے نوازنے میرٹ کیخلاف اپنے افراد کی بھرتیوں سیکیورٹی کمپنی میں نوشہرہ کے پرانے مقامی ملازمین کو نکالنے اور بورڈ کو نوشہرہ کے عوام کے خلاف ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کر نے کے اقدامات کے خلاف بطور احتجاج بورڑ سے اپنے استفے کا اعلان کر دیا۔مستعفی بورڈ ممبران ملک افتاب خان، ممبر بورڈ انجم خان خٹک نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا نوشہرہ کے سب سے بڑے ہسپتال قاضی حسین احمد تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ،سرنج،کینولا ، ایمرجنسی فرسٹ ایڈ انجکشن تک نہیں ہیں۔ نوشہرہ کے عوام دشمن اقدامات کے لئے نوشہرہ میں قاضی میڈیکل کمپلیکس کا دفتر استعمال کیا جارہا ہے۔تحقیقات کا مطالبہ کردیا


زیرو پوائنٹ

موچی شاعر

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎