امکان یہی ہے کہ عمران خان اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے پریشان کن دعویٰ کردیا

  جمعہ‬‮ 5 مارچ‬‮ 2021  |  12:20

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا متحرک ہونا اور اپنا فرض نبھانا ،پھر ڈسکہ کا انتخاب اور پھر اس پر الیکشن کمیشن کا سٹینڈ اور سینیٹ انتخابات کا رزلٹ، اس طرح کی چیزیں تو ہمیں بتا رہی ہیں کہ''تبدیلی'' آ گئی ہے اور وہ قوتیں جس طرح کہہ رہی ہیں تو اسی طرحوہ نیوٹرل ہو چکی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دوسری سائیڈ کے بھی اشارے مل رہے ہیں ، آنے والا وقت بتائے گا کہ حقیقت میں کیا ہے ؟انہوں نے کہا


کہ وزیراعظم قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ،یہ الیکشن کمیشن اگر پارٹی فنڈنگ کیس کا میرٹ اور وقت پر فیصلہ کر چکا ہوتا تو کیا پاکستان میں آج یہ نظام ہوتا ؟کیا آج عمران خان وہاں پر موجود ہوتے ؟پچھلے الیکشن میں جو بے شرمی دکھائی اس وقت کے الیکشن کمیشن نے،جس طریقے سے آر ٹی ایس سسٹم فیل کیا گیا ،جس طریقے سے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کران کی عدم موجودگی میں گنتی ہوئی ،جس طریقے سے حکومتی ایم این ایز اور سینیٹرز کو رعایتیں ملتی رہیں ،اس کے بعد تو اس الیکشن کمیشن کے جو اصل کردار تھے سیکرٹری الیکشن کمیشن ان کو تو اِنہوں نے تمغوں سے نوازا اور پھر اس کے بعد انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی ،جب یہ نہیں ہو سکا تو انہیں وزارت سے بھی زیادہ اہم منصب دیا گیا ۔سلیم صافی نے مزیدکہاکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو پہلے سے ایسے تھے ،اب خان صاحب کو بھی مہربانی کرنی چاہئے کہ وہ ریاست مدینہ اور اصولوں کی سیاست کا رولا ڈالنا چھوڑ دیں ،جس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو نہیں جچتی یہ چیزیں ،یہ پاور پالیٹکس ہے جو ان تین چار بڑی جماعتوں کےدرمیان ہو رہی ہے ،الیکشن میں پیسوں کا استعمال بالکل بند ہونا چاہئے،خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی نے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا ،مسلم لیگ ن نے دو تین پیسے والوں کو ٹکٹ دیئے جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ان کے ساتھ سالوں سے وابستہ ہیں ،ایم کیو ایماوراختر مینگل نے بالکل میرٹ پر ٹکٹ دیئے،تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور پارٹی امیدواروں کی ٹکٹ پر اعتراض ہوئے ؟نہیں ،سب سے زیادہ پیسے والوں کو ٹکٹ تو عمران خان نے دیئے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان جس رستے سے اقتدار میں آئے تھے اور جو بیساکھیاں اورسہارے ان کی حکومت کا وسیلہ بنے تھے ،اگر وہ سہارے اور وسیلے برقرار رہے تو پھر انہیں اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے ،غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن گزشتہ شام ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ وہ اب اپنا اعتماد کھو چکے ہیں،سینٹ نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اور ورکرز تو کیا ان کے اپنے پارلیمنٹیرین کا بھی اعتماد نہیں ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎