ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

امکان یہی ہے کہ عمران خان اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے پریشان کن دعویٰ کردیا

datetime 5  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا متحرک ہونا اور اپنا فرض نبھانا ،پھر ڈسکہ کا انتخاب اور پھر اس پر الیکشن کمیشن کا سٹینڈ اور سینیٹ انتخابات کا رزلٹ، اس طرح کی چیزیں تو ہمیں بتا رہی ہیں کہ”تبدیلی” آ گئی ہے اور وہ قوتیں جس طرح کہہ رہی ہیں تو اسی طرح

وہ نیوٹرل ہو چکی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دوسری سائیڈ کے بھی اشارے مل رہے ہیں ، آنے والا وقت بتائے گا کہ حقیقت میں کیا ہے ؟انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ،یہ الیکشن کمیشن اگر پارٹی فنڈنگ کیس کا میرٹ اور وقت پر فیصلہ کر چکا ہوتا تو کیا پاکستان میں آج یہ نظام ہوتا ؟کیا آج عمران خان وہاں پر موجود ہوتے ؟پچھلے الیکشن میں جو بے شرمی دکھائی اس وقت کے الیکشن کمیشن نے،جس طریقے سے آر ٹی ایس سسٹم فیل کیا گیا ،جس طریقے سے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کران کی عدم موجودگی میں گنتی ہوئی ،جس طریقے سے حکومتی ایم این ایز اور سینیٹرز کو رعایتیں ملتی رہیں ،اس کے بعد تو اس الیکشن کمیشن کے جو اصل کردار تھے سیکرٹری الیکشن کمیشن ان کو تو اِنہوں نے تمغوں سے نوازا اور پھر اس کے بعد انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی ،جب یہ نہیں ہو سکا تو انہیں وزارت سے بھی زیادہ اہم منصب دیا گیا ۔سلیم صافی نے مزیدکہا

کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو پہلے سے ایسے تھے ،اب خان صاحب کو بھی مہربانی کرنی چاہئے کہ وہ ریاست مدینہ اور اصولوں کی سیاست کا رولا ڈالنا چھوڑ دیں ،جس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو نہیں جچتی یہ چیزیں ،یہ پاور پالیٹکس ہے جو ان تین چار بڑی جماعتوں کے

درمیان ہو رہی ہے ،الیکشن میں پیسوں کا استعمال بالکل بند ہونا چاہئے،خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی نے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا ،مسلم لیگ ن نے دو تین پیسے والوں کو ٹکٹ دیئے جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ان کے ساتھ سالوں سے وابستہ ہیں ،ایم کیو ایم

اوراختر مینگل نے بالکل میرٹ پر ٹکٹ دیئے،تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور پارٹی امیدواروں کی ٹکٹ پر اعتراض ہوئے ؟نہیں ،سب سے زیادہ پیسے والوں کو ٹکٹ تو عمران خان نے دیئے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان جس رستے سے اقتدار میں آئے تھے اور جو بیساکھیاں اور

سہارے ان کی حکومت کا وسیلہ بنے تھے ،اگر وہ سہارے اور وسیلے برقرار رہے تو پھر انہیں اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے ،غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن گزشتہ شام ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ وہ اب اپنا اعتماد کھو چکے ہیں،سینٹ نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اور ورکرز تو کیا ان کے اپنے پارلیمنٹیرین کا بھی اعتماد نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…