ڈسکہ ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کی پاسداری ہے، الیکشن کمیشن نے جرات و بہادری کے ساتھ بکسہ چوروں کو سزائیں سنائیں، نوازشریف کا خصوصی پیغام

  جمعہ‬‮ 26 فروری‬‮ 2021  |  21:15

لندن(آن لائن)سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ڈسکہ ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کی پاسداری ہے، قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آئین شکن عناصر کا قلع قمع کئے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے،یہ تحقیق 18مارچ کو ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات بھی زیادہ ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیانمیں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ این اے75ڈسکہ کے ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ووٹ چوری کے کرداروں کی نشاندہی،سزاؤں کا تعین اور انصاف پر مبنی فیصلہ عین قانون کی پاسداری ہے،الیکشن کمیشن نے جرات و بہادری


کے ساتھ بکسہ چوروں کو سزائیں سنائیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ قوم جلد از جلد ان سزاؤں پر عملدرآمد ہوتا ہوا دیکھے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا سراغ لگایا جانا چاہئے کہ یہ سازش کس نے کی اور کہاں تیار کی گئی اور کب تیار کی گئی،چیف سیکرٹری پنجاب،آئی جی پنجاب،کمشنر،آر پی او اور پھر ڈپٹی کمشنر،ڈی ایس پی،پریزائیڈنگ افسران اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی فوج ظفرموج کو ایک ہی صف میں کس نے کھڑا کروایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے اور اس جماعت کی کس نے سرپرستی کی اور ووٹ چوری کی نگرانی کس نے کی،یہ تحقیق 18مارچ کو ڈسکہ میں ہونے والے دوبارہ مکمل ضمنی انتخابات بھی زیادہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کا الیکشن بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے،جس طرح سے یہاں چوری کی گئی2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا یہ کھلا ثبوت ہے،یہ بتاتا ہے کہ دھاندلی ایسے ہوئی تھی۔نوازشریف نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب الیکشن کے نتائج آنا بند ہوجائے یا اس میں تاخیر ہونا شروع ہوجائے تو سمجھلیا جائے کہ آپ کا ووٹ کہیں نہ کہیں چوری ہورہا ہے اور کوئی آپ کے ووٹ کو کسی اور کے بکس میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان تمام آئین شکن عناصر تک پہنچنا ہے جو قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں،ان عناصر کا قلع قمع کئے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے انشاء اللہ،میرا قوم کے ساتھ یہ وعدہ ہے اور قوم بھی دل سے وعدہ کرے کہ وہ بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے،جب تک ان چوروں کو ملک سے ختم نہیں کردیا جاتا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎