حکومت ضد پر ڈٹی ہے ،یہ شرم کے مارے حکومت نہیں چھوڑ رہے ،انہیں ہر صورت جانا ہوگا ،مولانا فضل الرحمان کا عمران خان کو خاص پیغام

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  23:44

لورالائی( این این آئی) پی ڈی ایم کے سربراہ جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت ضد پر ڈٹی ہوئی ہے ،یہ شرم کے مارے حکومت نہیں چھوڑ رہے لیکن انہیں ہر صورت جانا ہوگا ، عوام کو حکومت سے نجات دلاکر ان کا مزید استحصال نہیں کرنے دینگے ،31جنوری تک عمران خان نے بنی گالہ سےجانے کا فیصلہ نہ کیا تو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب کر کے آئندہ کا لائمہ عمل کا ااعلان کرینگے ۔ممتاز سیاسی و قبائلی رہنما سردار ولی خان حمزہ زئی کا اپنے خاندان سمیت جے


یو آئی میں شمولیت کے موقع پر ان کی رہائشگاہ پر تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 19جنوری کو اسلام اباد میں ریلی کی شکل میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی ائی فارن فنڈنگ کیس کے خلاف بھر پور احتجاج کرینگے کیونکہ اس کیس میں اسرائیل بھارت اور امریکہ نے عمران خان کی مالی سپورٹ کی ہے ہم اسے ضرور بے نقاب کرینگے انہوں نے کہا کہ کیس بھی انکے اپنے ایک بانی ممبر نے دائر کیا ہے اور کئی سال گذرنے کے بعد بھی اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن کیس کا ابھی کوئی فیصلہ کرے تو عمران خان آئین کے ارٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے ضد میں آکر وزیر اعظم نہیں رہ سکتے انہوں نے کہا کہ نیب کو نہیں مانتا اور اسکے سامنے کھبی پیش نہیں ہونگا انکے نوٹسز کی کوئی حیثیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دو ہزار اٹھارہ کے فراڈ الیکشن کو اسی وقت ہم نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دیگر کو بھی کہا گیا کہ اسمبلی کا حلف نہ لو لیکن انہوں نے مصلحت پسندی سےکام لیتے ہوئے حلف لیا جس پر ہمیں بھی مجبوری کے طور پر پھر حلف لینا پرآج میاں نواز شریف نے ہمارے اس موقف کی حمایت کی انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ جعلی فراڈ اور ناجائز الیکشن کی صورت میں اس حکومت کو غیر ائینی سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی ملک کے متفقہ ائین کے بجائے چین ایران اور ملائیشیاکے سسٹم سے متاثر ہیں اگر ہمارے حکمران اپنے ائین کو دل سے لگا تے ہوئے اسپر من وعن عمل کرتے تو ملک جمہوری قانونی اور ائینی طور پر دنیا اور قوم اسکی مثالیں دیتے انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو جمہوری طور پر مظبوط و مستحکم بنانے اور اسکی سالمیت و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں نااہل حکومت نے ملک کو نازک حالات سےدو چار کر دیا ہے آج ہماری سرحدیں محفوظ نہیں بھارت ہماری سرحدی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور ہم پر دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے دوڑ میں مصروف ہے اور ہم آج کہاں کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں نریندرمودی الیکشن جیت گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی مدد ملے گی لیکن ان کے آنےکے بعد کشمیر کو انہوں نے باقاعدہ اپنا حصہ قرار دیکر ائینی طور پر اسے بھارت میں ضم کردیا آج وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے کہ آپ کی مودی سے کیا ڈیل ہوئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی افواج کا احترام و عزت کرتے ہیں آئین میں طے کردہ حدود میں وہ کام کریں تو ہماری ان سے کوئی محاز ارائی نہیں ہم فوج کی قربانیوں کو سلام پیشکرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلدستان کو الگ صوبہ بنایا گیا ہمیں خوشی ہوئی لیکن فاٹا کے ایک کروڑ سے زائد آبادی والے ایریا پر مشتمل وسیع علاقے کو کیوں صوبہ نہیں بنایا جارہا انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے مارچ پنڈی جائے گا یا اسلام آباد اسکا فیصلہ بھی پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے مشاورت سے کیاجائیگا انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی مائی کا لعل اختلافات پیدا نہیں کرسکتا ہم متحد اور ایک پیج پر ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے گزشتہ سال ہمارے لانگ مارچ کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ آج پی ڈی ایم کے کال پر پورے ملک میں عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم تمام اداروں کو آئین کے فریم ورک میں دیئے گئےاختیارات فراہم کرنے کے حق میں ہیں میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کے خلاف بھر پور آواز اٹھائینگے انھیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہونہ چاہئے اس موقع پر جے یو ائی کے صوبائی امیر ایم این اے مولانا عبد الواسع مولانا امیر زمان مولانا فیض اللہ عطا ء اللہ کاکڑ سمیت قبائلی و سیاسی رہنما بھی موجود تھے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎