جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزارت سائنس کی سوموٹو سفارشات وفاقی حکومت رد کردے، راغب نعیمی نے پوپلزئی کی کمیٹی بارے بھی انتہائی اہم بات کر دی

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبراسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی سوموٹو سفارشات وفاقی حکومت رد کردے۔وزیر اعظم آفس رویٹ ہلال کی آئینی کمیٹی کے فیصلہ کوتسلیم کرے۔رویت ہلال میں تنازع کے اصل محرکات کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزاپنے جاری پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ رویت کا معنی کسی صورت کا نظر آنا، کسی چیز کا دیکھنا اور دیکھنے کی شہادت دینا وغیرہ آتا ہے، حدیث مبارکہ میں نبی کریمؐ نے فرمایا چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ (مسلم) نبی کریم ؐ نے چاند دیکھ کر یا اس کی دیکھے جانے کی شہادت کی بنا پر ہی رمضان، شوال اور دیگر مہینوں کے ختم اور شروع ہونے کا فیصلہ فرمایا، شرعی اعتبار سے شعبان، رمضان، شوال، ذیقعد اور ذی الحجہ کا چاند دیکھنا واجب کفایہ ہے، سائنسی ایجادات اور علم یقینا رویت کے تعین میں مدد گار ہو سکتے ہیں لیکن سائنسی بنیاد پر بنائے جانے والے قمری کلینڈر پر اعتبار رویت کے ذیل میں درست نہ ہو گا، وزات سائنس و ٹیکنالوجی کا خود ساختہ کلینڈر ملک میں مزید انتشار کا باعث ہے، فواد چوہدری وزیر سائنس کا رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے چند گھنٹے قبل چاند کی رویت کا اعلان سوائے خود ساختہ شہرت کے کچھ نہ ہے۔ آج جن مقامات پر رویت کے بارے پیش گوئی کی گئی ہے وہاں بھی جدید بصری آلات کے بغیررویت ممکن نہ ہے، ہر ملک میں رویت کا اپنا نظام ہے کسی دوسرے ملک کی رویت کے مطابق فیصلہ درست نہ ہے۔ وفاقی حکومت وفاقی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سوموٹو سفارشات کو رد کرے، اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وفاقی حکومت نے خود وزارت مذہبی امور کے مدمقابل وزارت سائنس کو لاکھڑا کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کو وزارت مذہبی امور کے فیصلہ کو نافذ کرنے کے لئے پوپلزئی کی کمیٹی کو ختم کرنا ہوگا۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…