منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان طیارہ حادثہ پر عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہو گئے، اہم اعلان کر دیا

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن)وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں، کریش لینڈنگ ہوئی ہے تو زمہ داران سامنے آنے چاہئیں۔کراچی میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل ارشد ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ طیارہ حادثے کی جلد از جلد اورشفاف انکوائری ہوگی،ائیر فورس کے ماہرین سے بھی مدد لی جائے گی،

ول ایوی ایشن (سی اے اے) اور پی آئی ایکے انجینئرز بھی اپنے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں،کوشش ہے طیارہ حادثے کی رپورٹ 3 ماہ میں آجائے، اگر حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ نہ آئے تو ہماری اور اداروں کی بھی کمزوری ہے،انہوں نے کہا کہ کریش لینڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار سامنے آنا چاہیے، سی ای او سمیت میری بھی ذمہ داری ہے کہ خودکو احتساب کیلئے پیش کروں،زمہ داری عائد کی گئی تومیں اور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے بھی عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ لواحقین کیلئے وزیراعظم کی ہدایت پرامدادی رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کی ہے جب کہ انشورنس کی رقم اس کے علاوہ ہوگی،مقامی آبادی کے اثاثوں کے نقصانات کا سروے کرنے کی بھی ہدایات کردی ہیں، جوگھرمتاثر ہوئے ان کی مرمت کرائیں گے اور آبادی میں جومالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے۔غلام سرور خان نے مزید کہا کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں سول ایوی ایشن کی 15 سو ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا۔ائیرپورٹ کے قریب اونچی عمارتیں ممنوع ہوتی ہیں،اگر ائیرپورٹ کے علاقے میں اضافی تعمیرات ہوئیں توان کے خلاف کارروائی ہوگی سی اے اے کی نااہلی پر ان کو بھی نوٹس دیے جائیں گے۔ اس موقع پر سی ای او ایئروائس مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ طیارے کا بلیک باکس انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہیحادثے کی تحقیقات کیلئے جو معلومات درکار ہوں گی وہ فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ 21 افراد کی میتیں ورثاء کوپہنچا دی گئی ہیں جب کہ باقی کے ڈی این اے کرائے جارہے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…