جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

رمضان کے خرچ کیلئے قونصل جنرل نے 2سو ڈالر اکائونٹ میں جمع کروائے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی حکام سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی حکام سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کےمطابق امریکی جیل حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ٹھیک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ہیوسٹن میں تعینات پاکستان قونصل جنرل کی جانب سے حلف نامہ اور دیگر دستاویزات عدالتِ عالیہ میں جمع کرائی گئی ہیں۔وفاقی حکومت کا جمع کرائے گئے جواب میں کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی حکام سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ کو فون پر بات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ قونصل جنرل نے رمضان کے خرچ کے لیے ڈاکٹر عافیہ کے اکاؤنٹ میں 200 ڈالر بھی جمع کرا دیے ہیں۔جمع کیے گئے جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے لیے امریکا سے رحم کی اپیل کے لیے بھی مشاورت جاری ہے، ڈاکٹر عافیہ کے لیے رحم کی اپیل ان کے اٹارنی یا جیل وارڈن کی جانب سے دائر کی جاسکتی ہے۔وفاقی حکومت کے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ قونصل جنرل نے 27 مارچ کو جانا تھا مگر کورونا وائرس کے سبب وزٹ منسوخ کر دیا۔جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پٹیشن پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، قونصل جنرل نے جلد از جلد قونصلر رسائی کی درخواست امریکی جیل حکام کو دے رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…