ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

گرمیاں شروع ہوتے ہی کرونا کا اثر ختم پاکستان میں15اپریل اور دنیا میں 15مئی کےبعد وائرس کی شدت میں کمی کی خوشخبری سنا دی گئی‎

datetime 2  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ستارہ شناس ایس اے چودھری المعروف ماموں نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستاروں کی چال بتا رہی ہیں کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کی شدت میں کمی آئے گی ،ابھی اور اکا دکا کیسز چلتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کافی آبادی اس سے متاثر ہوگی لیکن اس کی ہلاکت خیزی میں کمی ہوگی اور وہ اثر نہیں رہے گا۔

زحل اپنے گھر میں ہے جبکہ مارس بھی اپنی مضبوط ترین پوزیشن میں ہےاور نیپچون اس وقت جس پوزیشن میں ہے وہ جب بھی اس پوزیشن میں آیا ہے وبائی امراض لے کر آیا ہے۔حفاظتی اقدامات کریں تو ہی اس وبا سے بچا جا سکتا ہے۔جبکہ معروف ستارہ شناس سامعہ خان کا کہنا ہے کہ ستارے بتا رہے ہیں پاکستان میں پندرہ اپریل تک وائرس بڑھے گا۔اگر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ عرصہ لمبا بھی ہو سکتا ہے ۔اصل میں پاکستانیوں پر منحصر ہے کہ وہ کتنی حفاظتی تدابیر کو اختیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے حساب میں اگر کرفیو لگا دیا جائے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔15 اپریل کے بعد وبا میں کمی آنا شروع ہو جائے گی جبکہ دنیا بھر میں 15 مئی کے بعد کورونا کی وبا ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔معروف ستارہ شناس اور آسٹرو پامسٹ محمد اظہر کا کہنا ہے کہ گرمی کا اثر کورونا وائرس پر اتنا نہیں ہوگا بلکہ اصل اثر اس پر تب ہوگا جب عوام خود احتیاط کرنا شروع کر دے گی۔اگر عوام نے احتیاط کرنا شروع کر دی تو پاکستان میں حالات بہتری کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔دنیا بھر میں کم ازکم اگلے سال کے شروع میں حالات کنٹرول میں آنا شروع ہو جائیں گے۔ستارے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موسم کی شدت سے کرونا کی وبا میں بہتری نظر آنا شروع ہو جائے گی۔بے احتیاطی کی گئی موسم گرما نکلتے ہی کورو نا دوبارہ آسکتا ہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…